وزن کو بڑھنےسے روکیں

تحریر : محمد اقبال

وزن کم کرنا آسان نہیں ہوتا اس کے لیے بہت سے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ خوراک کا چناؤ احتیاط کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ایک بار محنت کرنا کافی نہیں ہوتا، کیونکہ زیادہ مشکل ہوتا ہے وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روکنا۔ ایک بار وزن کم کرنے کے بعد دوبارہ فربا ہونے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ عادتوں میں تبدیلی لائی جائے۔ذیل میں ان طریقوں اور غذاؤں کا ذکر ہے جن سے دوبارہ وزن بڑھنے سے بچا جا سکتا ہے۔ 
ناشتہ:بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ کھانا چھوڑنے سے حرارے کم ملتے ہیں اور یوں وزن کم ہوتا ہے۔ اسی خیال سے وہ ناشتہ ترک کر دیتے ہیں جبکہ معاملہ اس کے الٹ ہے۔ ناشتہ کرنے سے آپ کو دن بھر کے ضروری حرارے میسر آ جاتے ہیں، بھوک اچانک نہیں لگتی اور آپ بدحواس ہو کر بہت زیادہ کھانے نہیں لگتے۔ ایک جائزے کے مطابق ایسے مرد جو ناشتہ کرتے ہیں، ان کا وزن ناشتہ نہ کرنے والے مردوں سے عام طور پر کم ہوتا ہے۔ اسی طرح ناشتہ کرنے والی عورتوں کا ناشتہ نہ کرنے والی لڑکیوں کی نسبت جسمانی حجم اکثر کم ہوتا ہے۔ تاہم ناشتے میں فربا کرنے والی غذائیں استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔ 
ریشہ دار غذائیں:ریشہ (فائبر) والی غذاؤں کے یوں تو بہت سے فوائد ہیں لیکن ان میں سے ایک وزن کا مناسب رہنا ہے۔ انہیں کھانے سے پیٹ بھرا بھرا محسوس ہوتا ہے۔ زیادہ ریشے والی غذائوں میں کم حرارے اور کم چکنائی ہوتی ہے، اس کے باوجود غذائیت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ غذائیں آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہیں۔ ان سے خون میں شکر کی سطح متوازن رہتی ہے اور اچانک اوپر نیچے نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو دیر تک بھوک نہیں لگتی۔ چھلکوں سمیت استعمال ہونے والے اناج یعنی ہول گرینز میں میگنیشیئم اور وٹامن بی موجود ہونا ہے جو وزن کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
سبزیاں:ہری اور کچی سبزیاں جیسے گاجر، بروکولی، توری وغیرہ میں کم حرارے ہوتے ہیں، البتہ پانی زیادہ ہوتا ہے اور دیر سے ہضم ہونے والا ریشہ موجود ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ایسے لوگ جو سلاد کھاتے ہیں ان میں وٹامن سی، ای، فولیٹ اور کیروٹینائیڈز زیادہ ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے ضروری اور مفید ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سلاد اور سبزیاں کھانے والے لوگوں کا وزن (بڑا) گوشت کھانے والے لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔
مچھلی اور مرغی: پروٹین والی غذا کو بھی کھانے میں شامل کریں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ پروٹین والی غذا لیتے ہیں انہیں بھوک کم لگتی ہے اور وہ زیادہ وزن کم کر تے ہیں۔ البتہ پروٹین کا ضرورت سے زیادہ استعمال مضر ہے۔ مچھلی اور مرغی کو مرغن نہیں ہونا چاہیے۔ ذیابیطس کے مریض جو فربا بھی ہوں، انہیں گردوں کی بیماری کا خطرہ ہوتا ہے اور پروٹین کا زیادہ استعمال اس مسئلے کو بڑھا سکتا ہے۔
میوے:میووں میں چکنائی ہوتی ہے لیکن پھر بھی یہ وزن کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق میووں میں موجود چکنائی سے پیٹ بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق میووں کا روزانہ استعمال کرنے والے لوگوں کا جسمانی حجم میوے نہ کھانے والوں کی نسبت کم ہوتا ہے۔
کیلشیم:کیلشیم ہڈیوں کی نمو اور صحت کے لیے بہت اہم ہے۔ چکنائی کے خلیے میں جتنا زیادہ کیلشیم ہوگا اتنا چکنائی کو جلائے گا۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کم چکنائی والی دودھ سے بنی اشیا اس سلسلے میں بہت مفید ہیں۔ اس کے علاوہ بروکولی او ر کینو کا رس بھی مفید ہیں۔ 
ورزش: وزن کم کرنے کی جدوجہد میں ہم ورزش شروع کرتے ہیں لیکن وزن کم ہونے پر اسے ترک کر دیتے ہیں۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے ورنہ وزن دوبارہ بڑھ جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے