دریا ئے کنہار کی ٹراؤٹ مچھلی

تحریر : نازش حسن

بابو سرٹاپ سے بہنے والا دریائے کنہار 166 کلومیٹر طویل اور اپنے یخ بستہ پانی کے علاوہ ٹراؤٹ فش کیلئے بھی مشہور ہے۔یہ دریا وادی کاغان کے حسن میں قدرتی اضافہ کرتا ہے۔یہاں کی مچھلی اپنے ذائقے اور جسامت کے حساب سے بے مثال ہوتی ہے ۔ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ٹرائوٹ مچھلی کی افزائش کیلئے خصوصی اقدامات کئے ہیں ۔ جہاں ایک طرف خیبرپختونخوا انتظامیہ دریا کے گرد درخت لگا رہی ہے وہاں رواں سال ٹرائوٹ کی افزائش کیلئے تیس ہزار سے زائد ٹرائوٹ مچھلی کے بچے چھوڑے گئے۔بے دریغ شکار کے باعث ٹرائوٹ کی نسل معدوم ہورہی تھی جس کی وجہ سے اس کے شکار پر دو سال کیلئے پابندی لگائی گئی۔ ٹرافی فشنگ کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے ، جس میں کینیڈا اور اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ مدد فراہم کرتے ہیں ۔ سیاحتی مرکز کی وجہ سے ٹرائوٹ مچھلی کا شکار کرکے دوبارہ مچھلی دریا میں چھوڑ دی جاتی ہے ۔مچھلی کے شکار کی وجہ سے دریا کنارے ریسٹورنٹس کے کاروبار پر فرق پڑاہے۔
تیز بہاؤکے حامل اس دریا پر قبل ازیں سی پیک منصوبہ میں شامل” سکی کناری ڈیم ‘‘کی تعمیر کا کام جاری ہے جو آئندہ دوبرس تک مکمل ہوگا جس کی تعمیر کے بعد 870 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔دریائے کنہار کو وادی کاغان کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے کیونکہ 166 کلومیٹر طویل یہ دریا اپنی تمام تر دلکشی، خوبصورتی اور رعنائی کے ساتھ پوری وادی میں سانپ کی طرح بل کھاتا، مچلتا، گنگناتا اور محبتوں کے نغمے سناتا رواں دواں ہے۔دریائے کنہار ناران سے 48 کلومیٹر اوپر 14000 فٹ کی بلندی پر واقع لالو سر جھیل سے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے لیکن ملکہ پربت کے گلیشیئرز اور دودی پت جھیل بھی اسے پانی فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ویسے تو دریائے کنہار کا ہر نظارہ دلوں کو چھو لینے والا ہے لیکن شہزادہ سیف الملوک اور پری بدیع الجمال کی محبتوں کی رازدار جھیل سیف الملوک کے ساتھ اس کا ملاپ لافانی شاہکار ہے۔دریا کا پانی اس قدر شفاف ہے کہ ایک کلو میٹر کی بلندی سے بھی آپ اس کی تہہ میں پڑے کنکر اور پتھر دیکھ سکتے ہیں جبکہ اس کا پانی اس قدر یخ بستہ ہے کہ گرمیوں میں بھی لوگ اس میں نہانے سے گریزاں ہوتے ہیں۔اس دریا میں دنیا کی سب سے خوبصورت اور لذیذ مچھلی ٹراؤٹ پائی جاتی ہے۔ دریا کا برفیلا پانی اس کی افزائش کے لیے بے حد موزوں ہے۔
کنہار، دو الفاط یعنی پہاڑ اور نہار یعنی نہریں کا مجموعہ ہے۔ اس کا پانی آنکھوں کے امراض کے لیے بے حد اکسیر ہے۔کہا جاتا ہے کہ ایک بار ہندوستان کی ملکہ نور جہاں کشمیر کی سیر کے لیے جارہی تھیں تو انہیں آشوب چشم ہو گیا، حکما ء کے مشورے پر ملکہ نے دریائے کنہار کے پانی سے اپنی آنکھیں دھوئیں تو انہیں آرام آگیاچنانچہ انہوں نے اسے دریائے نین سکھ کا نام دیا جوآج بھی زبان زد عام ہے۔
سڑک کے کنارے سفر کریں تو دریائے کنہار مسلسل پہاڑوں سے آنکھ مچولی کھیلتا نظر آتا ہے، کبھی پہاڑ اوجھل تو کبھی دریا اوجھل۔ اکثر لوگ دوران سفر اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے دریا کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
دریا کے بے ترتیب پتھروں پر پاؤں رکھنا بعض اوقات جان لیوا ہوتا ہے لیکن اس کی نمی سے لبریز اور مختلف خوشبوؤں میں بسے ہوا کے دل آویز جھونکے دلوں پر ایک عجیب سی کیفیت طاری کر دیتے ہیں۔
رات کے وقت دریائے کنہار وادی کاغان میں چاندی کی ایک ٹیڑھی میڑھی لکیر کی طرح دکھائی دیتا ہے جو پہاڑوں اور چٹانوں سے لڑتا بھڑتا اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔
دریائے کنہار، وادی کاغان، جل کھنڈ، بالا کوٹ اور گڑھی حبیب اللہ سے گزرتا بالاآخر وادی کشمیر میں داخل ہو جاتا ہے اور مظفرآباد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر پتن کے مقام پر دریائے جہلم اور نیلم سے جا ملتا ہے۔آزاد کشمیر کے پرچم پر بنی چار لکیریں یہاں کے چار دریاؤں کی نمائندگی کرتی ہیں، کنہار بنیادی طور پر خیبر پختونخوا کا دریا ہے لیکن ان چار میں سے ایک لکیر دریائے کنہار کوآزاد کشمیر کا دریا ہونے کا اعزاز بھی بخشتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے