سابق سیکریٹری نسیم صادق نے گندم بحران پر جوڈیشل کمیشن بنانےکامطالبہ کر دیا

لائیوسٹاک پاکستان، سٹی42:سابق سیکریٹری خوراک پنجاب نسیم صادق نےآٹابحران پرجوڈیشل کمیشن تشکیل کرنےکا مطالبہ کردیا۔ نسیم صادق نےچیف سیکرٹری کوخط میں لکھاکہ پنجاب میں آٹامافیاکوبچایاجارہا ہے۔ نسیم صادق نےتمام الزامات کاتفصیلی جواب دیا۔

آٹابحران کی تحقیقات میں نیا موڑآگیا۔ سابق سیکریٹری خوراک پنجاب نسیم صادق نےآٹابحران پرجوڈیشل کمیشن تشکیل کرنےکامطالبہ کردیا۔ نسیم صادق نےچیف سیکرٹری کوخط میں لکھاکہ پنجاب میں آٹامافیاکوبچایاجارہا ہے۔گندم کی ایکسپورٹ ریبیٹ اورسبسڈی میں کرپشن ہے۔

نسیم صادق نےخط میں لکھاکہ وہ2ماہ2دن سیکریٹری خوراک تعینات رہے۔ جب چارج سنبھالاتو گندم خریداری مہم شروع ہوچکی تھی۔ گندم خریداری مہم کےبعدمتعدداسکینڈلزکاپتہ چلا۔ تحقیقات شروع کیں تو تبادلہ کردیاگیا۔

نسیم صادق نےچیف سیکریڑی پنجاب کوخط میں لکھاکہ گندم خریداری مہم اورآٹاشارٹیج کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نےلکھاکہ چارملین میٹرک ٹن گندم خریداری کاٹارگٹ کبھی پورانہیں ہوا۔ کم پیداوارہونےکےباوجودبہترین کارکردگی رہی۔  باردانہ اوپن کرنےکافیصلہ کابینہ کاتھاجس پرعملدآمد کیاگیا

نسیم صادق کاکہناتھاکہ فیڈملوں کوگندم جاری کرنےکافیصلہ ان سےپہلےہواجس کےدستاویزی شواہدموجود ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کومس گائیڈکیاجارہاہے۔ نسیم صادق نےانکشاف کیاکہ انکوائری کمیٹی کےدوممبران ڈی جی خان میں گھرالاٹ کرنےکیلئےدباؤڈالتےرہے۔

نسیم صادق کمشنرڈی جی خان تھے۔ آٹابحران کی رپورٹ آنےپرانہوں نےرضاکارانہ طورعہدہ چھوڑنےکی درخواست کی، جسےقبول کرلیا گیا

ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کی سربرا ہی میں تین رکنی کمیٹی نےملک میں ‏گندم بحران پرتحقیقاتی رپورٹ تیارکرکےوزیراعظم کوپیش کی۔۔جس میں پنجاب اورخیبرپختونخواکےصوبائی وزراکوذمہ دارقراردیاگیا جبکہ سندھ کوکلین چٹ مل گئی۔

رپورٹ کےمطابق گندم بحران وفاقی وصوبائی حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث سامنے آیا۔ پنجاب فلورمل مالکان نےصوبائی اہلیت کی کمزوری کافائدہ اٹھایا۔ رپورٹ کےمطابق پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے20-22دن تاخیرسےگندم ‏جمع کرناشروع کی۔پنجاب فوڈ‏ڈیپارٹمنٹ ڈیمانڈاسپلائی کیلئےطریقہ کاربنانےمیں ناکام رہااورصورتحال کے‏پیش نظرفیصلےنہیں لئے۔

پنجاب میں گندم ٹارگٹ پوراناہونےکاذمہ داروزیرخوراک سمیع اللہ،سابق فوڈسیکریٹری نسیم ‏صادق،سابقہ فوڈدائریکٹرظفر اقبال کوقراردیاگیا۔ 

رپورٹ کےمطابق سندھ میں کم گندم حاصل کرنے کی ذمہ داری کسی پر انفرادی طور پر نہیں ڈالی ‏جاسکتی۔سندھ کابینہ نے گندم حاصل کرنے کی سمری پر کوئی فیصلہ ہی نہیں ‏کیا۔ کے پی کے میں میں گندم خریداری کےٹارگٹ پورےنہ کرنے پرصوبائی وزیر قلندرلودھی،سیکریٹری اکبر خان اورڈائریکٹرسادات حسین ذمہ دار ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے