بھیڑ بکری کے دودھ کا حصول اور مصنوعات

بھیڑ کا دودھ گائے سے دوگنا گاڑھا جس کی وجہ اس کی پروٹین زیادہ اور فیٹ 7 فیصد سے زیادہ اور پنیر بنانے کے لئے اعلیٰ اور بھینس سے بہتر اور بکری کا دودھ گائے کے برابر دونوں وٹامنز اور پروٹین سے بھر پور اور قدرتی چراگاہ کی دستیابی اور سردی میں خشک چارہ اور چارہ TMR خوراک اضافی اجزا کے ساتھ ۔

بھیڑ بکری کے دودھ کا حصول

بچوں کی پرورش خاص فیڈ جس سے 2 ماہ بعد ان کی اوجھڑی کو وقت سے پہلے ممکن کرکے ان کی 6 ماہ تک صرف فیڈ 15 پر پرورش ، کاف سٹارٹر کی بجائے بھیڑ بکریوں کا کڈ سٹارٹر پر پرورش اور 6 ماہ بعد بچہ تیار جو کہ ان ممالک میں بہت شوق سے کھایا جاتا ہے اور خاص Dish تیار کی جاتی ہیں۔ ان پر خرچ آنے والا خرچ بچوں کو 6 ماہ بعد صرف فیڈ پر پال پورا کیا جاتا ہے ۔ 2 ماہ بعد بہترین مناسب خوراک TMR اضافی اجزا کے ساتھ ان کے دودھ کی انکم سے بہت بہتر منافع حاصل کر رہے ہیں ۔ یونان اٹلی نیوزی لینڈ اور آسڑیلیا میں ان کی فارمنگ جدید طریقہ پر کی جاتی ہے اور ان ممالک میں فروخت کے بعد اس کو برآمد کرکے اربوں روپے کا زرمبادلہ حاصل کر رہے ہیں جو کہ ان ممالک کی ترقی کا راز ہے ۔ جبکہ پاکستان کی راجن پور نسل کی مندری بھیڑ اور کجھلی بھیڑوں کی اعلیٰ نسل موجود ہے۔ مگر ان کو روایتی سو سالہ نظام کے تحت پال کر عام فارمر کے لئے منافع ممکن نہیں۔ ان کی فیڈ کی عدم دستیابی اور خشک چارہ کی آگاہی اور کمزور پیدا شدہ بچوں میں مرنے کی وجہ اور دوسرے ان کی فارمنگ میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ اس وجہ سے مندری گھبن کمزور بھیڑ بہت سستی مل جاتی ہے مگر بھیڑ کی نا مناسب فیڈ اور ان کی پرورش کے لئے فیڈ اضافی اجزا کے ساتھ جو کہ ان کی پرورش کے لئے اہم ہیں پاکستان میں پہلی بار اب یہی فارمولہ پاکستان میںاب عام کسان کو دستیاب ہے ۔ اس کے مقامی نسل پر تجربات کے بعد اب یہ فارمولہ نہایت مناسب قیمت پر کمپنی کے منظور شدہ ڈیلر سے پورے پاکستان کے اہم شہروں میں دستیاب ہے۔

بکریوں کی کامیاب فارمنگ

بیتل سفید بیتل راجن پوری نکری سفید اور بیتل مکھی چینی سے 2 ماہ بعد فیڈ اور خشک چارے سے 3 کلو دودھ حاصل کرکے 300 روپے روزانہ حاصل کرنا مشکل نہیں اگر یہ اعلیٰ نسل کی بکریاں ہو اور ان کو جدید طریقہ اور فیڈ سے پالا جائے اس ماڈل میں گھبن بکری کی بچے دینے سے قبل 2 ماہ تک فیڈ اور خشک چارہ سے ہی ممکن ہے۔ جس سے بکری 2 بچوں کے بعد بھی بکری کی صحت بحال اور پیدا شدہ بچوں کا روایتی خوراک کی بجائے خاص فارمولہ سے وزن اضافہ اور مرنے کی شرح نہ ہونے کے برابر 2 ماہ بعد یہ ماڈل پوری دنیا میں کامیابی کی ضمانت ہے ۔ دنیا کے خوشحال ممالک میں بکری کا دودھ بہتر ریٹ پر بکتا ہے اور بکری اور بھیڑوں کا دودھ جس میں فیٹ بھینس کے دودھ سے گاڑھا ہے اور پنیر میں استعمال ہوتا ہے ۔ منافع بخش کامیاب فارمنگ کی وجہ سے بھیڑ بکری کا دودھ دنیا کے بہت سے ممالک میں استعمال کیا جاتا ہے، لیکن کچھ کے استعمال کی شرح دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہے،جن میں مندرجہ ذیل ممالک ہیں نیوزی لینڈ آسڑیلیا امریکہ میں بھیڑ کے گاڑھے دودھ جس میں بھینس سے زیادہ پروٹین اور فیٹ ہے ان سے پنیر تیار کیا جاتا ہے جوکہ دودھ سے 10 گنا مہنگا ہے ۔ اس کے علاوہ

یونان: بکری بھیڑ بکری کے دودھ سے مختلف شکلوں میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، جیسے تازہ دودھ، پنیر اور دہی۔

فرانس: بھیڑ پنیر کے سب سے بڑے پروڈیوسر میں سے ایک ہے۔

سپین: یہ دودھ پنیر، دہی اور دیگر ڈیری مصنوعات بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

مراکش: بکری کا دودھ مراکش کے کھانوں میں ایک روایتی جزو ہے اور اسے اکثر میٹھے یا لذیذ پکوان بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

میکسیکو:اس دودھ سے مختلف قسم مٹھائیاں بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، جیسے کیجیٹا (کیریمل کی چٹنی کی ایک قسم) اور ٹریس لیچز کیک۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک: ان کا دودھ مشرق وسطیٰ کے کھانوں میں ایک عام جزو ہے اور اسے پنیر، دہی اور دیگر دودھ کی مصنوعات بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

افریقی ممالک: بہت سے افریقی ممالک میں یہ دودھ ایک روایتی کھانا ہے، جہاں اسے اکثر سوپ، سٹو اور دیگر پکوان تیار کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ترقی یافتہ ممالک میں یہ دودھ بڑے شوق سے پیا جاتا ہے ان پر بکری اور بھیڑ کا مونو گرام اور ملاوٹ سے پاک اور اوگینک لکھنے سے یہ دودھ گائے کی دودھ سے دوگنی قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔ اس دودھ کی مقبولیت ثقافتی روایات، دستیابی اور ذائقہ کی ترجیحات جیسے عوامل کی بنیاد پر بہت کامیاب ثابت ہو چکا ہے۔