شوگر کنٹرول کرنا سائنس سے زیادہ آرٹ!

پاکستان میں شوگر کے مرض میں خطرناک حد تک اضافہ

تحریر : ڈاکٹر سہیل اختر

دنیا بھر میں ذیا بیطیس کا عالمی دن ہر سال 14 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں آج تقریباً ہر گھر میں شوگر کا مریض موجود ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں اس مرض میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں شوگر کے مریضوں کی تعداد میں ہمارا نمبر تیسرا ہے جبکہ مڈل ایسٹ اور افریقہ کے 21 ممالک کی فہرست میں ہمارا نمبر دوسرا ہے۔ پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 30لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ شوگر کے مرض کو سمجھنے کیلئے پہلے ہمیں چند بنیادی چیزوں کو سمجھنا ہو گا۔

سب سے پہلے ہمیں سمجھنا ہو گا کہ شوگر کیا ہے اور ہمیں شوگر کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔ ہمارا وجود اربوں سیلز سے مل کر بنا ہے اور ہر سیل کو زندہ رہنے کیلئے ہر لمحہ انرجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ انرجی تب آتی ہے جب سیل شوگر (گلو کوز ) کو برن کرتا ہے۔ شوگر ہمارے لئے انرجی کا ایک ذریعہ ہے اور یہ شوگر ہمیں کھانے پینے کی چیزوں سے ملتا ہے۔ خوراک میں انرجی کی مقدار کو کیلوریز میں ماپا جاتا ہے۔ کسی بھی انسان کو زندہ رہنے کیلئے جتنی کیلوریز در کار ہوتی ہیں اس کا انحصار اس کے لائف سٹائل، جنس، قد، سائز اور اس کی صحت پر ہوتا ہے۔ عموماً ایک مر د کو دن بھر میں ڈھائی ہزار کیلوریز اور خواتین کو 2 ہزار کیلوریز کی ضروت ہوتی ہے۔ کھانے کی مختلف چیزوں میں مختلف مقدار میں کیلوریز ہوتی ہیں جیسا کہ 2 کپ پالک میں 16 کیلوریز اور ایک کپ مکئی میں 123 کیلوریز ہوتی ہیں۔ اسی طرح سو گرام گندم کی ایک روٹی میں 340 کیلوریز ہوتی ہیں۔ ہم اپنی ضرورت کی 65 فیصد کیلوریز کار بوہائیڈریٹس سے حاصل کرتے ہیں۔ ہم جو کھانا کھاتے ہیں اس میں تین اجزاء ہوتے ہیں:

1: فیٹ 2: پروٹین، 3: کار بوہائیڈریٹ۔

ان تینوں میں کار بوہائیڈریٹ ہی ایسا جزو ہے جس سے شوگر (گلو کوز ) بنتا ہے۔ کاربوہائیڈریٹ کا آسان مطلب یہ ہے کہ کھانے پینے کی کوئی بھی چیز جو باڈی میں جاکر شوگر (گلو کوز ) میں تبدیل ہو جاۓ وہ کاربوہائیڈریٹ ہے۔ چاہے وہ چیز میٹھی ہو، نمکین یا پھیکی ۔ جب آپ کھانے کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں تو اصل میں آپ کار بو ہائیڈریٹ کھانے کا سوچتے ہیں۔ آپ کوئی بھی بیکری آئٹم ، فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، آئس کریم، فروٹ ،روٹی ، سبزی یا دال چاول کھاتے ہیں تو در حقیقت آپ کار بوہائیڈریٹ ہی کھارہے ہوتے ہیں۔ کار بوہائیڈ ریٹ کو ہم چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:

Monosaccharide :1 Disaccharides :2 Oligosaccride :3 Polysaccride :4

ان چاروں کار بوہائیڈریٹس میں مختلف مقدار میں شوگر موجود ہوتی ہے ۔ ان میں سے کچھ کار بو ہائیڈریٹس ہمارا بلڈ شوگر تیزی سے بڑھاتے ہیں۔ انہیں ہم کار بوہائیڈریٹس سیمپل“ کہتے ہیں جیسا کہ چینی اور اس سے بنے والی اشیاء، بیکری کا سامان ، فاسٹ فوڈ وغیرہ۔ کچھ کار بوہائیڈر میس بلڈ شوگر آہستہ آہستہ بڑھاتے ہیں انہیں ہم ” کمپلیکس کار بوہائیڈریٹس کہتے ہیں۔ گندم، چاول اور دالوں میں 60 سے 80 فیصد تک کار بوہائیڈریٹ ہو تا ہے لیکن یہ ہمارے بلڈ شوگر کو تیزی سے نہیں بڑھاتے ۔سبزیوں میں 70 سے 80 فیصد تک تو پانی ہو تا ہے ،فیٹ اور پروٹین بھی کم ہو تا ہے، تقریبا 7 فیصد تک تھوڑا سا کار بوہائیڈریٹ ہو تا ہے ،اس لئے سبزیاں بھی ہمارا بلڈ شوگر لیول زیادہ نہیں بڑھاتیں۔ البتہ چند سبزیاں جنہیں ہم Starchy Vegetable کہتے ہیں جو زمین کے اندر پیدا ہوتی ہیں جیسے شکر قندی، آلو وغیرہ میں کار بوہائیڈیٹ تھوڑا زیادہ ہو تا ہے۔ ان چیزوں کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔

جب ہم کھانا کھاتے ہیں جیسے سبزی، دال، چاول روٹی وغیرہ تو وہ سیدھا ہمارے معدے میں چلا جا تا ہے ۔ انٹائین میں چھوٹے چھوٹے ذرات میں بریک ڈائون ہو تا ہے اور یہ ذرات ہمارے لیور میں چلے جاتے ہیں۔ لیور میں ری پروسیسنگ “ ہوتی ہے جہاں شوگر (گلوکوز ) بنتا ہے اور وہ شوگر بلڈ سرکولیشن کے تحت ہمارے ایک ایک سیل تک پہنچتی ہے تا کہ وہ انرجی پروڈیوس کر پاۓ اور اس انرجی سے وہ اپنا کام سر انجام دے سکیں۔ جب ہم کار بو ہائیڈریٹ والی چیز میں کھاتے ہیں تو وہ ہماری باڈی میں جاکر شوگر (گلو کوز ) میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہ شوگر بلڈ میں تو اپنے آپ چلی جاتی ہے لیکن وہ شوگر بلڈ سے سیل میں آٹو میٹک ٹرانسفر نہیں ہو سکتا۔ اس کو ایک کیر ئیر کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ کیرئیر انسولین ہے۔ انسولین کا کام ہے کہ وہ بلڈ سے شوگر لے کر سیل میں ڈالتا ہے ۔ انسولین کو آپ سیل کے دروازے کی چابی بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اس کا مطلب ہوا کہ بلڈ میں یہ چابی ہو گی تب ہی سیلز کے دروازے کھلیں گے اور تب ہی شوگر سیل تک پہنچ پاۓ گی۔ ہماری باڈی میں انسولین بنانے کا کام لبلبہ کر تا ہے ۔ کار بوہائیڈریٹ کے زیادہ استعمال کے باعث ہم میں سے کچھ لوگوں میں انسولین اس مقدار میں نہیں بن پاتی جتنی ضرورت ہوتی ہے اور گلو کوز بلڈ میں ہی گھومتا رہتا ہے۔ انسان اور جانور شوگر کو سٹور نہیں کر سکتے ، صرف پودے ہی شوگر کو سٹور کر سکتے ہیں۔ اسی لئے آپ نے دیکھا ہو گا کہ زیادہ تر پھل میٹھے ہوتے ہیں۔ جب شو گر باڈی میں سٹور نہیں ہو تا تو کچھ شو گر تو ہمارے روز مرہ کے کام کاج میں استعمال ہو جاتی ہے لیکن جو فالتو شو گر بچتی ہے تو سیل کے پاس اس کا کوئی استعمال نہیں ہو تا۔ سیل اس فالتو شو گر کوفیٹ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس طرح ہمارا وزن بڑھنے لگتا ہے اور سیلز کیلئے انسولین ریز بیسٹنٹس بھی بڑھنے لگتی ہے۔ عموماً آپ نے دیکھا ہو گا کہ زیادہ تر موٹے لوگوں میں شوگر ( ذیا بیطس کا مرض زیادہ ہو تا ہے۔ ایک عام انسان کو 10 گرام کاربوہائیڈریٹ کیلئے ایک یونٹ انسولین کی ضرورت ہوتی ہے جیسے جیسے آپ زیادہ کار بوہائیڈریٹ کھاتے ہیں ویسے ویسے انسولین کی ضرورت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ 100 گرام گندم کی ایک روٹی سے حاصل ہونے والی شو گر سیل کے اندر ڈالنے کیلئے تقریبا3.50 یونٹ انسولین کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب اگر ہم زیادہ کار بوہائیڈریٹ والی چیز میں کھائیں گے تو ہماری باڈی میں شوگر کالیول بڑھے گا اور جب شوگر کا لیول ایک خاص حد سے تجاوز کرے گا تو اسے ہم کہیں گے ہائی بلڈ شوگر یاذیا بیطس۔

شوگر اپنے آپ میں کوئی بیماری نہیں ہے یہ ایک میڈ یکل کنڈیشن ہے۔ اگر ہائی بلڈ شوگر مستقل رہے تو اس سے کئی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ جیسے دل کے امراض ، بلڈ پر یشر ، گردوں کا فیل ہو نا، بینائی کاکم ہونا، ہاتھوں اور پیروں کا سن ہو ناوغیرہ۔ شوگر کا مرض ہمارے لائف سٹائل اور کھانے پینے کی عادات سے جڑا ہے ۔ شوگر کا مرض "لائف سٹائل ڈیزیز “ میں آتا ہے جسے ہم اپنالائف سٹائل اور کھانے پینے کی عادات تبدیل کر کے با آسانی کنٹرول کر سکتے ہیں۔ آپ کو علم ہو نا چا ہیے کہ کس چیز میں کار یو ہائیڈ ریٹ زیادہ ہیں اور کس میں کم ہیں اور جس چیز میں کار بو ہائیڈریٹ زیادہ ہیں وہ نہیں کھانی چاہیے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے روز مرہ کھانے میں کار بوہائیڈ ریٹ کو کم کرنا ہے کیو نکہ جب باڈی میں کم کار بوہائیڈ ریٹ جاۓ گا تو بلڈ میں شوگر بھی کم جائیگاگ اور ہمیں کم انسولین کی ضرورت پڑے گی۔ یادرکھیے بلڈ شوگر کو کنٹرول کر ناسائنس سے زیادہ ایک آرٹ ہے ۔

ڈاکٹر سہیل لائف سٹائل ڈزیزز کے ماہر ہیں، صحت عامہ کے متعلق ان کے کئی مضامین شائع ہو چکے ہیں