چینی چھوڑنے سے دماغ پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

عام خیال یہ ہی ہے کہ میٹھا زیادہ کھانا آپ کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا لیکن خوراک میں میٹھے کی مقدار بہت کم کرنے سے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ بہت سی ناخوشگوار علامات کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ یہ سن کر حیران رہ جائیں کہ چینی کی کھپت برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں گزشتہ ایک دہائی میں بتدریج کم ہوئی ہے۔

ایسا کئی وجوہات کی بنا پر ہو رہا ہے جیسا کہ لوگوں کے ذائقوں یا طرز زندگی میں تبدیلی اور نشاستہ دار غذا کم کرنے کا رجحان۔ گزشتہ ایک دہائی میں کیٹو خوراک کی مانگ بڑھنے سے یا چینی کے مضر صحت ہونے کے بارے میں زیادہ آگاہی پیدا ہونے کی وجہ سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔

خوارک میں چینی کی مقدار کم کرنے کے صحت پر واضح طور پر مثبت اثرات پیدا ہوتے ہیں اور کیلوریز کم لینے سے بھی صحت بہتر ہوتی ہے اور اس سے وزن بھی کم ہوتا ہے لیکن لوگ جب چینی کم کھانا شروع کرتے ہیں تو کبھی کبھار اس کے صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ مثلاً سر میں درد رہنا ، تھکن کا احساس اور مزاج میں تلخی پیدا ہونا شامل ہیں، لیکن یہ عارضی ہوتا ہے ۔

ان علامات کی وجوہات کے بارے میں کم علمی پائی جاتی ہے لیکن یہ ممکن ہے کہ ان علامات کا تعلق چینی زیادہ کھانے سے دماغ کے ردِ عمل سے ہو، جسے ’ بائیولوجی آف ریوراڈ ‘ یا صلے کی بائیولوجی کہا جاتا ہے۔

نشاستہ دار غذا کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں، جن میں چینی شامل ہے جو کھانے کی بہت سی چیزوں میں قدرتی طور پر شامل ہوتی ہیں، جیسا کہ پھلوں میں فرکٹوز اور دودھ میں لیکٹوز کی صورت میں۔ کھانے کی چینی جس کو سائنسی اصطلاح میں سوکروز کہا جاتا ہے وہ گنے، چوقندر، میپل سیرپ اور شہید کے بڑے اجزا، گلوکوز اور فرکوٹوز میں شامل ہے۔

چینی خوارک کی بڑے پیمانے پر تیاری عام ہو گئی ہے، سوکروز اور چینی کی دوسری اقسام بھی خوراک میں شامل کی جاتی ہیں تاکہ اسے لذیذ اور ذائقہ دار بنایا جا سکے۔ ذائقہ بہتر کرنے کے علاوہ ایسی غذا کے استعمال سے جس میں چینی کی مقدار زیادہ ہو اس کے گہرے بائیولوجیکل اثرات ذہن پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہ اثرات کافی شدید ہوتے ہیں اور یہ بحث ابھی جاری ہے کہ کیا آپ چینی کے عادی ہو جاتے ہیں۔

سوکروز منہ میں چینی کا ذائقہ محسوس کرنے والے اجزا کو متحرک کر دیتا ہے جن کا بالآخر اثر دماغ میں ڈوپامین نامی کیمیا کا اخراج ہوتا ہے۔ ڈوپامین ایک نیوروٹرانسمیٹر ہے جس کے ذریعے دماغ میں پیغام رسانی ہوتی ہے۔ جب عمل شروع ہوتا ہے تو دماغ ڈوپامین خارج کرنا شروع کرتا ہے جس کی وجہ سے اسے ’ ریوارڈ ‘ یا انعامی کیمیکل کہا جاتا ہے۔

ڈوپامین کا یہ انعامی عمل دماغ کے ان حصوں میں ہوتا ہے جو مزے اور انعام سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ انعامی عمل ہمارے رویے پر اثر انداز ہوتا ہے اور ہم وہ کچھ دوبارہ کرنا چاہتے ہیں جس سے ہمارے دماغ میں ڈوپامین خارج ہوتا ہے۔ ڈوپامین کی وجہ سے ہم دوبارہ وہ خوراک کھانا پسند کرتے ہیں یا وہ چیز جو ’ جنک فوڈ ‘ کے زمرے میں بھی آتی ہیں۔

انسانوں اور جانوروں پر تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح چینی سے یہ انعامی عمل متحرک ہو جاتا ہے۔ تیز میٹھا اس عمل کو متحرک کرنے میں کوکین کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ چوہوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ چینی چاہے وہ خوراک کی صورت میں لی جائے یا اسے انجیکشن کے ذریعے خون میں شامل کیا جائے اس سے یہ انعامی عمل متحرک ہو جاتا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق منہ میں ذائقہ محسوس کرنے کے اجزا سے نہیں ہوتا۔ چوہوں پر ہونے والی تحقیق سے ایسے ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں کہ سوکروز کے استعمال سے دماغ میں ڈوپامین متحرک کرنے والے نظام میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور اس سے انسان اور جانوروں کے مزاج اور رویے بھی بدل جاتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ چینی کے استعمال سے ہم پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس ہی وجہ سے یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے کہ جب ہم چینی کا استعمال کرنا شروع کرتے ہیں تو اس کے منفی اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

چینی ترک کرنے کے ان ابتدائی دنوں میں جسمانی اور ذہنی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں جن میں ڈپریشن، پریشانی، بے چینی، ذہنی دباؤ، تھکن، غنودگی اور سر کا درد شامل ہے۔ چینی چھوڑنے سے جسمانی اور ذہنی طور پر ناخوشگوار علامتیں محسوس ہوتی ہیں جس کی وجہ سے کئی لوگوں کے لیے ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ان علامات کی بنیاد پر وسیع تر تحقیق نہیں ہو سکی ہے لیکن یہ ممکن ہے کہ اس کا تعلق ذہن کے انعامی جوڑوں سے ہے۔ چینی کی لت لگ جانے کا خیال ابھی متنازع ہے لیکن چوہوں پر تحقیق سے ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ بہت سے دوسرے ایسے اجزا جن کی آپ کو عادت یا لت پڑ جاتی ہے اور ان میں چینی بھی شامل ہے اور اس کو چھوڑنا مختلف اثرات کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے مثالاً چینی کھانے کی شدید خواہش، طلب اور طبعیت میں بے چینی کا پیدا ہونا۔

جانوروں پر مزید تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ چینی کی عادت کے اثرات منشیات کے اثرات سے ملتے ہیں جن میں دوبارہ ان کا استعمال شروع کر دینا اور اس کی طلب کا محسوس کیا جانا شامل ہے۔ اس ضمن میں جتنی بھی تحقیق کی گئی ہے وہ جانوروں تک ہی محدود ہے اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ انسانوں میں ہی ایسا ہی ہوتا ہے۔ انسانی دماغ میں موجود انعامی جوڑوں پر انسان میں ہونیوالے ارتقائی عمل سے کوئی فرق نہیں پڑا ہے اور اس کا امکان موجود ہے کہ دوسرے اجسام میں بھی اس قسم کے انعامی جوڑے موجود ہوں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ چینی چھوڑنے کے بائیولوجیکل اثرات جو جانوروں میں دیکھے گئے ہیں وہ انسانوں میں بھی کسی حد تک نظر آ سکتے ہیں کیونکہ انسانی دماغ میں بھی اس طرح کے انعامی جوڑے ہوتے ہیں۔

خوراک میں جب چینی کی مقدار گھٹائی جاتی ہے تو دماغ میں ڈوپامین کے اخراج میں تیزی سے کمی ہوتی ہے، جس سے دماغ کے مختلف حصوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ جو لوگ اپنی خوراک میں چینی کی مقدار کم کرتے ہیں ان کے ذہن کے کیمیائی توازن پر یقینی طور پر اثر پڑتا ہے اور یہ ہی ان علامات کے پیچھے کار فرما ہوتا ہے۔ ڈوپامین انسانی دماغ میں، قے، غنودگی، بے چینی اور ہارمون کو کنٹرول کرنے میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔

گو کہ چینی کے انسانی دماغ پر ہونے والے اثرات پر تحقیق محدود ہے لیکن ایک تحقیق سے ایسے شواہد ملے ہیں کہ موٹاپے اور کم عمری میں فربا مائل افراد کی خوراک میں چینی کم کرنے سے اس کی طلب شدید ہو جاتی ہے اور دوسری علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں۔

خوراک میں کسی بھی دوسری تبدیلی کی طرح اسے برقرار رکھنا اہم ہوتا ہے۔ اگر آپ چینی کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے ابتدائی چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ چینی آپ کی صحت کے لیے مضر ہے لیکن اعتدال کے ساتھ اس کا استعمال اور ورزش صحتمند خوراک کے ساتھ ضروری ہے۔   ( بشکریہ بی بی سی )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے