میٹھے مشروبات کا روزانہ استعمال جگر کے سرطان کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے، تحقیق

راک وِل: ایک نئی تحقیق کے مطابق روزانہ کم از کم ایک بار میٹھا مشروب پینا جگر کے سرطان کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔

متعدد اداروں کے محققین نے 50 سے 70 برس کے درمیان پوسٹ مینو پوز میں مبتلا 90 ہزار 504 خواتین کا تقریباً 19 سال تک معائنہ کیا۔

تحقیق میں محققین یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا میٹھے مشروبات کے استعمال جیسے کہ پھلوں کا رس اور سوڈا ڈرنکس، کا جگر کے سرطان کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔

مطالعے میں سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ وہ خواتین جو روزانہ کم از کم ایک بار میٹھا مشروب پیتی تھیں ان میں جگر کا کینسر ہونے کے امکانات ان خواتین کی نسبت 73 فی صد زیادہ تھے جو مہینے میں تین یا اس سے تھوڑی زیادہ تعداد میں مشروبات پیا کرتی تھیں۔

ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ انٹرنیشنل کے مطابق جگر کا کینسر دنیا بھر میں چھٹی  سب سے زیادہ تشخیص ہونے والی کینسر کی قسم ہے۔ جبکہ امیریکن کینسر سوسائیٹی کے مطابق امریکا میں اس بیماری کے کیسز اور اس سے  متعلقہ اموات کی شرح بڑھ رہی ہے۔

اس تحقیق سے قبل کیے جانے والے مطالعوں میں یہ شواہد ملے تھے کہ دیگر مشروبات کی عادات جگر کے کینسر کے خطرات کو متاثر کر سکتی ہیں، جیسے کہ شراب نوشی کا تعلق زیادہ امکانات جبکہ کافی کا تعلق کم خطرات سے ہے۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا میں ڈاکٹریٹ کے امیدوار اور تحقیق کے سربراہ مصنف لونگینگ ژاؤ کے مطابق تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق میٹھے مشروبات کے استعمال میں کمی جگر کے کینسر کے خطرات میں کمی میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

سائنس دانوں کی جانب سے یہ تحقیق 14 سے 16 جون تک جاری رہنے والی امریکن سوسائیٹی فار نیوٹریشن کی سالانہ میٹنگ کے موقع پر پیش کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے