فالج اور دماغی بیماریوں سے بچنے کےلیے روزانہ چائے اور کافی پیجیے، ماہرین

تیانجن: چینی طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ روزانہ 2 سے 3 کپ کافی یا 3 سے 5 کپ چائے پیتے ہیں، ان میں فالج اور ڈیمنشیا (دماغی بیماریوں کے مجموعے) کا امکان بھی بہت کم رہ جاتا ہے۔

یہ نتائج انہوں نے 50 سے 74 سال کے 365,682 برطانوی شہریوں کے روزمرہ معمولات اور صحت سے متعلق ایک طویل مدتی مطالعے میں جمع کی گئی معلومات کا تںجزیہ کرنے کے بعد اخذ کیے ہیں۔

یہ مطالعہ 2006 میں شروع ہوا جس میں رضاکاروں کی بھرتی 2010 تک کی گئی جبکہ ان تمام افراد کی صحت پر 2020 تک نظر رکھی گئی۔ تمام رضاکاروں کی صحت سے متعلق معلومات ’’یو کے بایوبینک‘‘ نامی ڈیٹا بیس میں رکھی گئی ہیں جس تک دنیا کا کوئی بھی طبّی ماہر رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

تیانجن میڈیکل یونیورسٹی چین کے یوآن ژانگ اور ان کے ساتھیوں نے ان ہی اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا، جس پر انہیں معلوم ہوا کہ روزانہ باقاعدگی سے چائے اور کافی پینے والوں میں یہ مشروبات نہ پینے والوں کی نسبت فالج کا خطرہ نمایاں طور پر کم تھا۔

بہترین اثرات اُن رضاکاروں میں دیکھے گئے جو روزانہ 2 سے 3 کپ کافی، 3 سے 5 کپ چائے یا مجموعی طور پر چائے اور کافی کے 4 سے 6 کپ پیتے ہیں۔

ان افراد میں فالج کا خطرہ، چائے اور کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں 32 فیصد کم جبکہ ڈیمنشیا کا خطرہ 28 فیصد کم دیکھا گیا۔

چائے اور کافی، دونوں کا اہم ترین مشترکہ جزو ’’کیفین‘‘ ہے جو اعصابی خلیوں اور دماغ کے درمیان پیغام رسانی کی رفتار بڑھاتے ہوئے دماغ کو کو عارضی طور پر تقویت پہنچاتا ہے۔

ایک کپ کافی میں اوسطاً 40 ملی گرام جبکہ چائے کے ایک کپ میں 11 گرام کیفین ہوتی ہے۔

پچھلے دس سال میں مختصر پیمانے پر کیے گئے بعض مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ کیفین کا استعمال ڈیمنشیا سے بچانے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔

تازہ تحقیق اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے جس میں ادھیڑ عمر اور بوڑھے افراد کی ایک وسیع تعداد کو شامل کیا گیا ہے۔

اگرچہ نئی تحقیق سے بھی ڈیمنشیا اور فالج سے بچاؤ میں کیفین کی اہمیت واضح ہوئی ہے لیکن اب بھی یہ جاننا باقی ہے کہ کیفین کس طرح سے دماغ اور خون کے بہاؤ کو بہتر بنا کر ہمیں اہم دماغی امراض سے محفوظ رکھتی ہے۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیلات ’’پبلک لائبریری آف سائنس‘‘ (پی ایل او ایس) نیٹ ورک کے آن لائن ریسرچ جرنل ’’پی ایل او ایس میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے