فائیو جی ٹیکنالوجی کیسے مضر صحت؟ سندھ ہائیکورٹ، وضاحت طلب

سندھ ہائی کورٹ نے فائیو جی ٹیکنالوجی پر پابندی سے متعلق درخواست پر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) حکام کو نوٹس جاری کر د یا

کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے فائیو جی ٹیکنالوجی پر پابندی سے متعلق درخواست پر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) حکام کو نوٹس جاری کر د یا ۔ دوران سماعت عدالت کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے کے جواب کے بعد ہی کارروائی آگے بڑھائیں گے ،دنیا انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ رہی ہے اور ہم پابندی لگادیں؟۔پیر کو جسٹس محمد علی مظہر کی سر براہی میں جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فائیو جی ٹیکنالوجی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ فائیوجی ٹیکنالوجی انسانی صحت کے لیے مضر ہے ، فائیو جی کے تجربات سے اس کے خطرناک ہونے کے شواہد ملے ہیں، جب کہ یہ ٹیکنالوجی ماحول اور آب و ہوا کے لیے بھی نقصان دہ ہے ۔ اس کے علاوہ 4 جی کے بھی نقصانات تھے مگر وہ اتنی خطرناک نہیں،5 جی پر پابندی لگائی جائے ۔ دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ بتائیں 5 جی کیسے مضر صحت ہے ؟ کیا فائیو جی کا کسی کو لائسنس دیا گیا ہے ؟ جس پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ فائیو جی کا باقاعدہ لائسنس کسی کو جاری نہیں ہوا۔ بعدازاں عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فائیو جی کے مضر صحت ہونے کے حوالے سے وضاحت طلب کر لی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے