ویٹرنری گریجوایٹس کیلئے ہاؤس جاب

کچھ عرصہ قبل صوبائی وزیر لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ پنجاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوۓ فرمایا تھا کہ حکومت نے ویٹرنری گریجو ایٹس کی قابلیت اور استعداد کو بڑھانے کیلیۓ اور لائیو سٹاک سیکٹر کی بہتری کیلئے MBBS کی طرز پر ہاؤس جاب شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس ہاؤس جاب ماہانہ پچاس ہزار روپے تنخواہ مقر کی جاۓ گی۔ہاؤس جاب کا دورانیہ ایک سال تجویز کیا گیا۔تین تین ماہ کے عرصے کو مختلف فیلڈز میں تقسیم کرکے ویٹرنری سے متعلقہ تمام میجر فیلڈز کو کور کرنے کی کوشش کی گئ۔پھر وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے بھی اس کی منظوری کا اعلان کیا گیا۔

اس اعلان کو لائیو سٹاک سے تعلق رکھنے والے تمام افراد نے سراہا اور ایک خوش آئند امر قرار دیا۔یہ منصوبہ نہ صرف لائیو سٹاک سیکٹر کی بہتری کیلئے ایک روڈ میپ تھا بلکہ پرائیویٹ میڈیسن کمپنیوں اور فیڈ ملز کی جانب سے ویٹرنری ڈاکٹرز کے سالہا سال سے کیے جانے والے استحصال کے خاتمے کیلئے بھی ایک روشن امید بن کر سامنے آیا۔مزید اس کا ایک فائد یہ بھی سمجھا گیا کہ تمام فیلڈز میں کام کرنے کے بعد سٹوڈنٹس کیلئے یہ آسان ہو جائے گا کہ ان کیلئے کونسی فیلڈ بہتر ہے اور مستقبل میں انہیں کس سمت محنت کرنی ہے۔

لیکن شاید یہ صرف اعلان ہی تھا۔کیوں کہ مہینوں گزرنے کے باوجود محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کی طرف سے اس جانب کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئ۔ستم ظریفی دیکھئے کہ ابھی حال ہی میں محکمہ لائیو اسٹاک نے اپنی تین سالہ کارکردگی کو عوام کے سامنے پیش کیا تو اس میں اس بات کا بھی کریڈٹ لیا کہ ہم نے ویٹرنری گریجو ایٹس کیلئے ہاؤس جاب کا "اجراء” کیا ہے۔حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ابھی تک اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ ہاؤس جاب کب سے شروع ہوگی،شروع ہوگی بھی کہ نہیں یا پھر یہ معاملہ حکومت کیلئے پوائنٹ سکورنگ تک ہی محدود رہے گا۔

ہماری ذمہ داری:
پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کا حکمران طبقہ اس وقت تک عوام کو حقوق دینے کیلئے رضامند نہیں جب تک مجبور نہ کردیا جاۓ۔یہاں حقوق لیے نہیں جاتے بلکہ چھینے جاتے ہیں۔یہ بات اس حکومت تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ ہماری چوھتر سالہ تاریخ کا حصہ ہے۔
لہٰذا ویٹرنری ہاؤس جاب ہمارا حق ہے اور ہمیں ہی اس کیلئے پر امن جدو جہد کرنی ہے۔ہمیں اس حق کیلئے جدو جہد کرنی ہے جس کو حکومت خود تسلیم کرچکی ہے۔
اور ہم یہ بھی جانتے ہیں تمام ویٹرنری سٹوڈنٹس بالعموم اور 2017-22 اور 2018-23 کے بیجز اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔کیونکہ کرونا کی وجہ سے یہ دونوں بیج سب سے زیادہ متاثر ہوۓ ہیں۔دوسال ہونے کو ہیں اور آن لائن سسٹم پر ٹرخایا جا رہا ہے۔ہمارے سب کلینیکل سبجکٹس آن لائن کی دار پر چڑھ گۓ ہیں۔
کچھ تجاویز ہیں رقم کیے دیتا ہوں۔آپ بھی اپنی تجاویز پیش کریں کیونکہ یہ جنگ ہماری مشترکہ جنگ ہے اور اس کو ہمیں لڑیں گے اور ہمیں جیتیں گے انشاء اللّٰہ۔۔۔۔۔۔

1-سب سے پہلے اس مسئلے کو سوشل میڈیا پر بھرپور طریقے سے اجاگر کیا جاۓ تاکہ ڈی وی ایم سٹوڈنٹس اس مسئلے کو سمجھیں،اس کیلئے جدو جہد کرنے کیلئے ذہنی طور پر تیار رہیں۔مزید برآں حکومتی حلقوں تک بھی یہ بات پہنچے کہ جو وعدہ ہم کر چکے ہیں اس کو پورا کرنا بھی ضروری ہے۔
2-اس معاملے کی سوشل میڈیا پر بھرپور کمپین چلائی جاۓ اور ٹویٹر پر ٹرینڈ بنانے کی کوشش کی جاۓ۔
3-ہر ویٹرنری یونیورسٹی یا فیکلٹی کے تمام سمسٹرز کی ایک نمائندہ ٹیم بنے،جو اس مسئلے پر اپنی یونیورسٹی میں آگاہی کمپین چلاۓ اور تمام سٹوڈنٹس کو اس تحریک میں متحرک کردار ادا کرنے پر ابھارے۔
4-تمام ویٹرنری یونیورسٹیز اور فیکلٹیز کی ایک نمائندہ کمیٹی بناۓ جاۓ جو اس مسئلے کے ڈپلومیٹک پہلوؤں پر غور کرے،منسٹری آف لائیو سٹاک سے بات کرے،اس مسئلے کی اہمیت،ضرورت اور حساسیت پر بریف کرے۔
5-منسٹر آف لائیو سٹاک،ڈائیریکٹر آف لائیو سٹاک،پی وی ایم سی اور تمام متعلقہ اتھارٹیز کے نام مشترکہ ٹیم کی طرف سے خطوط لکھے جائیں،ملاقاتیں کی جائیں اور اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کی جاۓ۔
6-اس تمام کاروائی میں ہماری ساتھی معزز فیمیلز کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے،گزارش کروں گا اس سلسے اپنے میل ساتھیوں کی بھرپور معاونت کریں۔
7-سٹوڈنٹس تنظیموں سے بھی اس بابت رابطے کیے جائیں اور ان کی بھرپور حمایت حاصل کی جاۓ۔

8-اس مطالبے کو منوانے کیلئے باقاعدہ ٹائم فریم بنایا جاۓ،کیونکہ آخری سال کے سٹوڈنٹس کے پاس صرف تین، چار ماہ ہیں اور پھر انہیں معمول کے مطابق انٹرن شپ پر بھیج دیا جاۓ گا۔

تحریر: محمد طیب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے