کتنے شدید سیلاب آئیں گے؟ دنیا کے تمام گلیشئرز پگھل رہے ہیں!

تحریر : انجینئررحمیٰ فیصل

سائنسی ماہرین کا ماننا ہے کہ دنیا پر جمی ہوئی تمام برف اب پگھلنے کے مرحلے میں ہے،یہ کتنے برسوں میں پگھلے گی ،کچھ کہنا مشکل ہے۔ برفانی تودوں کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کچھ دیو قامت تودے اپنے برفانی گلیشئر سے علیحدہ ہو کر ٹوٹ رہے ہیں اور جس وقت یہ برفانی تودے پگھلیں گے تو آج ہم اندازہ نہیں کر سکتے ، ایک خوفناک طوفان ہمارے سمندروں میں دکھائی دے گا۔
یہ بات حیران ہے کہ پاکستان میں بعض گلیشئرز پھیل رہے ہیں۔سٹفینی پاپس (Stephanie Pappas) نے اپنے مضمون ” ایشیاء میں گلیشئرزپگھلنے کی بجائے حیران کن طور پر پھیل کیوں رہے ہیں؟ (Why Asia’s Glaciers Are Mysteriously Expanding, Not Melting) میں الٹ بات لکھی ہے انہوں نے کئی تحقیقات کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ ”قراقرم (کے ٹو) کے علاقے میں کئی گلیشئرزپھیل رہے ہیں‘‘۔انہوں نے سنٹرل قراقرم، سائوتھ ویسٹ قراقرم اور سائوتھ ا یسٹ قراقرم کے کئی ہزار مربع کلومیٹر میں بارشوں اور دیگر امور سے متعلق کا پاکستانی محکمہ موسمیات سے 1861ء سے 2100ء بارشوں ، درجہ حرارت اور ہوا میں نمی کا ڈیٹا لے کراس کا جائزہ لیا۔اس کا تعلق نمی کے دوبارہ برف کی صورت میں جمنے سے بھی ہو سکتا ہے دنیا کے کئی حصوں میں نمی نیچے گر جاتی ہے لیکن کے ٹو کے ایک حصے میں یہی نمی دوبارہ پہاڑوں پر برف کی صورت میں جم جاتی ہے‘‘۔پرنسٹن یونیورسٹی کی سارہ کیپنک (Sarah Kapnick) کا کہنا ہے کہ ” برف باری میں اضافے سے برف (گلیشئرز )میں اضافہ ہو رہا ہے ‘‘ ۔
دنیا میں سطح سمندر کتنی بلند ہوگی؟ کون کون سے شہر ڈوبیں گے، ناسا اسی پر کام کررہا ہے ۔ ناسا نے بھی کہا ہے کہ ”پگھلتے ہوئے گلیشئرز دنیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، خاص طور پرہر ساحلی علاقے ‘ڈینجر زون‘ بن چکے ہیں۔محقق ریکارڈو ریواکا کہنا ہے کہ ” امریکہ کینیڈا سرحد کے قریب 1910 میں گلیشئرز نیشنل پارک ‘‘ بناتے وقت 150گلیشئرز کو دستاویزی شکل دی گئی تھی، اب وہاں 30گلیشئرز باقی بچے ہیں ان کا حجم بھی دو تہائی رہ گیا ہے‘‘۔ ایک عالمی رسد گاہ کی محقق رابن بیل کہتی ہیں، ” سمندروں کو باتھ روم کا ٹب سمجھنا ،یا یہ سوچنا کہ ہم ان پر بند باندھ لیں گے،بہت بڑی حماقت ہے۔ یہ بے قابو ہو جائیں تو تباہ کاریوں کو روکنا نا ممکن ہو جائے گا۔لوگوں کو برفانی تودوں کے پگھلنے سے دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں پتہ چلنا چاہیے ‘‘۔
یہ تبدیلی دنیابھرمیں ایک جیسی نہیں ہو گی ،پانی کی سطح کہیں زیادہ اور کہیں کم بلند ہو گی ‘‘۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ” برف کے پگھلنے سے گلیشئر کے حجم میں کمی ہو جائے تو کشش میں بھی کمی ہو نا لازمی ہے اس لئے جن ممالک میں گلیشئرز کی کشش ثقل میں کمی ہو رہی ہے وہاں سمندر کی سطح بلند ہونے کی بجائے نیچے آ رہی ہے۔ اس عمل کو ”سی لیول فنگر پرنٹ ‘‘ (Sea Level Fingerprint)کہا جاتا ہے۔نیدر لینڈز میں یونیورسٹی آف ڈیلفٹ (Delft) کی محقق ریکارڈو ریوا(Riccardo Riva) کا کہنا ہے کہ ”جب تک ہم اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے کہ سمندروں میں کن کن ذرائع (گلیشئرز)سے پانی آئے گا اس وقت تک ہم سمندروں کی سطح میں بلندی یا کمی کا تعین نہیں کر سکتے‘‘۔تاہم گلیشئرز کے پگھلنے کی رفتار نیو یارک شہر میں سب سے زیادہ ہے۔
یہ اپنی نوعیت کے اہم مقالات ہیں ،جو ”برفانی نقصانات‘‘ پر حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔کیونکہ انسان گلیشئرز اور برفانی تودوں کے پگھلنے کے منفی اثرات سے واقف نہیں۔ وہ نہیں جانتا کہ ‘ گلیشئر پیٹر مین ‘ کے پگھلنے کی رفتار دنیا میں تیز ترین ہے۔ سطح سمندر میں اضافے کے اثرات سے بچنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ یاد رکھیں دنیا کے ہر کونے میں سطح سمندر بلند ہوگی۔
گلیشئرز کے پگھلنے سے سطح سمندر کتنی ہوگی ؟ دوسرے یہ کہ گلیشئرز کو پگھلنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے ؟۔ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لئے ناسا کے محقق ایرک لارول(Eric Larour) نے اسی بارے میں بتایا کہ ” سب سے بڑا مسئلہ برف کا آپ کے مقام کے قریب یا دور ہونے کا ہے ذرا نیو یارک اور گرین لینڈ کی مثال لیجئے۔ یہاں اتنی برف ہے کہ سطح سمندر 20فٹ تک بلند ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے پگھلنے کی رفتار مختلف ہے ۔ گرین لینڈ کے برفانی تودے مختلف رفتار سے پگھل رہے ہیں۔ کرہ ارض پر درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوگا۔ نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ گرین لینڈ کے شمال مشرقی کونے نیو یارک سے ذرا فاصلے پرجمی ہوئی برف زیادہ تیزی سے پگھلے گی۔ ذرا انٹارکٹیکاکے برفانی تودے کا جائزہ لیں۔ صرف اس برفانی تودے کے پگھلنے سے سطح سمندر 13 فٹ بلند ہو ئی جبکہ بعض محققین کے نزدیک یہ مغربی برفانی تودہ پگھلنے کے عمل سے دو چار ہے۔ یہ برفانی تودہ آسٹریلوی شہر سڈنی کو بھی لے ڈوبے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے