کورونا ویکسین دونوں خوراکوں کے درمیان وقفہ نقصان دہ نہیں

تحریر : رانا حیات

کورونا ویکسین کی دوسری خوراک لینے میں تاخیر نہ صرف خوراک کی فراہمی کو جسم میں زیادہ وسیع پیمانے پر تقسیم کرنے کی اجازت دیتی ہے بلکہ دوسری خوراک دینے میں زیادہ وقت کا وقفہ حفاظتی قوت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق ویکسین کی دونوں خوراکوں کے درمیان وقفہ نقصان دہ نہیں بلکہ فائدے مند ثابت ہوا ہے۔نئی تحقیق بتاتی ہے کہ جب دوسری ویکسین دیر سے لگائی جاتی ہے تو وائرس سے لڑنے کے لئے تیار ہونے والی اینٹی باڈیز زیادہ ہوجاتے ہیں۔
ویکسین کی محدود فراہمی اور ویکسین کے منتظر ممالک کے لوگ تذبذب کا شکار ہیں اور مختلف افواہیں گردش کررہی ہیں ۔ پہلی اور دوسری ویکسین ڈوزکے درمیان وقفہ کو دوگنا یا تین گنا کرنا بہتر ہے۔ سائنسدانوں نے بھی اب اس کی تصدیق کردی ہے۔ سنگاپور میں ویکسین کی درمیانی مدت کے پہلے تین ہفتوں کو اب چھ سے آٹھ ہفتے کر دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد اگست تک پوری اٹھارہ سے اوپر عمر کی آبادی کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک دینا ہے۔ انڈیا میں بھی ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک کے درمیان وقفہ کو 12 سے 16 ہفتوں تک کر دیا گیا ہے۔2020 میں جب تک ویکسینیشن شروع ہوئی ، اس وقت تک خوراک میں طویل وقت کے وقفے کی یقین دہانی کے لئے کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد ممالک نے سب سے زیادہ خطرے والی آبادی کوویکسین کی خوراک دینی شروع کی اور ان کی دوسری خوراک کے انتظار کو لیکر گارنٹی دی۔ برطانیہ نے سب سے پہلے ان رکاوٹوں کو 2020 کے آخر میں ایک بڑے پیمانے پر ختم کیا۔تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پہلا شاٹ مدافعتی نظام کو متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے اس وائرس کے خلاف حفاظتی اینٹی باڈیز بننا شروع کردیتے ہیں۔ اس ردعمل کو جتنا لمبا اورپختہ ہونے دیا جاتا ہے ، دوسرے بوسٹر شاٹ کا رد عمل اتنا ہی بہتر ہوتا ہے جو ہفتوں یا مہینوں بعد آتا ہے۔دوسری طرف تیسری لہر خصوصی طور پر بچوں کو متاثر کرے گی۔ وہیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ COVID-19 انفیکشن والے زیادہ تر بچوں کو تیسری لہر میں شدید بیماری ہوگی۔ انتباہ کیاگیا ہے کہ دوسری لہر ختم ہونے کے بعد اگر ہم کوویڈ کے خلاف ویکسین مناسب طرز عمل پر جاری نہیں رکھتے ہیں تو تیسری لہر ممکن ہے کہ باقی غیر استثنیٰ افراد کو بھی متاثر کردے۔
یونیسیف (UNICEF ) کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2020 سے لے کر مارچ 2021 تک 100 ممالک سے COVID-19 کے اعداد و شمار مرتب کیے گئے، اس وقت بچوں کے 80 ملین کیسوں میں سے 11 ملین (13 فیصد) بچوں میں کورونا کے اثرات پائے گئے تھے۔ مزید یہ کہ 78 ممالک میں 6,800 سے زیادہ بچے اور نو عمر نوجوان COVID-19کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ یکم جنوری سے 21 اپریل کے دوران اکٹھے کیے گئے سرکاری اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ کچھ ممالک میں کوویڈ کے 5.6 ملین تصدیق شدہ کیسوں میں سے تقریباً 12 فی صد 20 سال سے کم عمر کے افراد پائے گئے ہیں۔ بچوں میں ملٹی سسٹم سوزش سنڈروم انفیکشن کا اثر ہوسکتا ہے۔کچھ ممالک میں ویکسین کو کسی بھی 18 سال سے کم عمر افراد میں استعمال کے لئے منظور نہیں کیا گیا ہے۔
جن لوگوں کو ذیابیطس ، ہائی بلڈ پریشر ، کینسر ، دل کی بیماری ، گردوں کی بیماری ، جگر (لیور کی بیماری) ، تھائیرائڈ ، امیونوس پریسو جیسی بیماری ہوتی ہے ان کو ویکسین ضرور لینا چاہئے کیونکہ ان پر وائرس کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ویکسین لیتے وقت بتانا چاہئے کہ وہ کیا دوائیں لے رہے ہیں۔تاہم جس شخص کو ویکسین کی پہلی خوراک سے الرجی ہوئی ہو اسے اس کی دوسری خوراک نہیں لینی چاہئے۔ایسے لوگ جو بخار ، کھانسی ، نزلہ ، بخار وغیرہ سے دوچار ہیں وہ اس وقت تک ویکسین نہیں لیں جب تک کہ وہ مکمل طور پر ٹھیک نہ ہوجائیں۔جن لوگوں کے خون کے بہاؤ میں گڑبڑ ہے جیسے کہ جسم میں پلیٹ لیٹس کا کم ہونا یا اگر وہ کوئی ایسی دوا لے رہے ہیں جو خون کو پتلا کرتی ہے تو انہیں اس بارے میں ویکسین لینے سے پہلے ہیلتھ افسر کو آگاہ کرنا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے