ناقص خوراک سے قد 20 سینٹی میٹر کم

تحریر : ڈاکٹر سید فیصل عثمان

دنیا کے بعض خطوں میں بچوں کا قد چھوٹا اور بعض علاقوں میں بڑا ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟
برطانوی میڈیکل جرنل ”لانسٹ ‘‘نے حال ہی میں ”امپیرئل کالج لندن‘‘ کی ایک تحقیق میں یہ راز کھولا ہے کہ ”خوراک اچھی نہ ہو توبچوں کا قد 20سینٹی میڑ تک کم ہو سکتا ہے‘‘۔ایک عالم گیر تحقیق کا حوالہ دیتے طبی جریدے کا کہنا ہے کہ ”ناقص اور ملاوٹی خوارک دنیا بھر میں قد چھوٹے ہونے کی ذمہ دار ہے۔اس میں سکول کے بچوں سے لے کر بالغ مرد و عورتیں بھی شامل ہیں‘‘۔
6.50کروڑ بچوں پر تحقیق 
امپیرئل کالج لندن نے دنیا کے193 ممالک میں 5برس سے 19برس تک کے 6.50کروڑ بچوں اور ٹین ایجرز کا ڈیٹااکھٹا کیا، خوراک اور عمر کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کیں۔طویل القامت ممالک کے بچوں کے قد اور خوراک کا موازنہ پستہ قد ممالک کے بچوں سے کرنے پر یہ راز کھلا کہ ناقص خوراک کی بدولت قد میں 20سینٹی میٹر تک کمی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ تحقیق بھی پیش کی کہ ان ممالک میں عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ قد میں اضافے کی رفتار کم رہ جاتی ہے۔لڑکوں کا قد بلحا عمر آٹھ سال اور لڑکیوں کا چھ سال کی عمر میں برابر ہوتا ہے یعنی کم خوراکی کا شکار ممالک میں 19سال لڑکی کا قد اچھی خوراک والے ملک کی 11سالہ لڑکی کے برابر ہو گا۔بنگلہ دیش اور گوئٹے مالامیں 19سالہ لڑکی کا قد نیدرلینڈز کی 11سالہ لڑکی کے برابر پایا گیا۔ قد کے اعتبار سے ان کی عمروں میں آٹھ برس کا نکلا ۔ 
محققین کا کہنا ہے کہ کم خوراکی یا ناقص خوراک گروتھ میں رکاوٹ تو بنتی رہی ہے اس سے موٹاپا بھی جنم لے رہا ہے۔ زندگی بھر کے لئے ان کی جسامت متاثر ہوتی ہے۔
دراز قد اور پستہ قد بچوں والے ممالک 
تحقیق کے لئے 1985ء سے 2019ء تک کا دستیاب ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے۔بہتر خوراک کی وجہ سے سنٹرل اور شمال مغربی یورپی ممالک کے لڑکے اور لڑکیاں دراز قد تھیں۔جن میں نیدر لینڈز ، مونٹیگرو، ڈنمارک اور آئس لینڈ سر فہرست ہیں۔اس کے برعکس پستہ قد بچے اوربچیاں جنوبی ایشیاء، جنوب مشرقی ایشیاء ، لاطینی امریکہ، مشرقی افریقہ کے ممالک شامل ہیں ۔
جن ممالک میں بچوں کے قد میں اضافہ ہوا
گزشتہ 35برسوں میں کئی ممالک میں بچوں کے قد بہتر ہوئے ہیں ،ان میں چین ، جنوبی کوریا اور جنوب مشرقی ایشیاء کے چند ممالک سر فہرست ہیں۔مثال کے بطور پر چین میں 2019ء میں 19سالہ نوجوان کا قد ان برسوں میں 8 سینٹی میٹر لمبا ہوا ہے۔ بلحاظ قد چین عالمی رینکنگ میں1985ء میں150ویں نمبر سے 2019ء میں 65 ویں نمبر پر آ گیا تھا۔اس کے برعکس اسی عرصے میں سب صحرائی ممالک میں بچوں کے قد میں کمی آئی۔گزشتہ 35برسوں میں برطانیہ کی رینکنگ میں بھی نمایاں تبدیلی ہوئی ہے۔برطانیہ اس رینکنگ میں 28ویں نمبر پر تھا، وہاں 19سالہ بچوں کا مجموعی قد 1985ء میں 176.3 سینٹی میٹر تھا جو 2019ء میں 178.2سینٹی میٹرہو گیا۔اسی طرح برطاینہ میں لڑکیوں کا مجموعی قد اسی عرصے میں 162.7 سینٹی میٹر سے بڑھ کر 163.9سینٹی میٹر ہو گیا۔
ٹیم کا کہنا ہے کہ کئی ممالک میں بچوں کا قد کاٹھ 5سال کی عمر تک تو ٹھیک رہا لیکن بعد ازاں ان کا جسم بے ڈھنگا ہونے لگا ، وہ موٹاپئے کا شکار ہو گئے ۔5برس کی عمر کے بعد ان کے قد میں اضافے کی رفتار بھی پہلے جیسی نہ رہی۔اس کا تعلق بھی جنک فوڈ سے ہے۔پروفیسر اورر مصنف ماجد عزتی(Majid Ezzati)کے بقول یہ بچے سکول کی عمر کو پہنچنے سے پہلے خوراک پر توجہ نہیں دیتے ۔وہ بچپن میں غیر متوازن خوراک لیتے رہے ہیں جس کے باعث نوجوانی میں ان کی صحت متاثر ہوئی اور قد کاٹھ میں متوقع اضافہ نہ ہو سکا۔
جان لیوا کم خوراکی
عالمی ادارہ صحت نے بھی 2019ء میں 4.70 کروڑ بچوں کو کم خوراکی کا شکار قرار دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ 1.43کروڑ بچے انتہائی زیادہ ”ویسٹنگ‘‘ کا شکار ہوئے۔یہ کم خوراکی کی جان لیوا شکل ہے۔ ویسٹنگ کا شکار بچے موت کا نوالہ بھی بن سکتے ہیں۔ وہ نہایت ہی دبلے پتلے اور کمزور ہیں۔اس وقت دنیا بھر میں دوا رب باشندے کم خوراکی کا شکار ہیں، ہمیں 2050ء تک 60فیصد اضافی خوراک درکار ہو گی جس کا ہمارے پاس کوئی بندوبست نہیں۔ ے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے