زمین کو زرخیز بنانے والی ایپ

تحریر : لنڈا وانگ

امریکی سائنسدان زرخیز زمین کے صحرا میں تبدیل ہونے کے عمل کو کم کرنے کے لیے اور بعض صورتوں میں خراب ہونے والی زمین کی سابقہ زرخیز حالت بحال کرنے کی خاطر نت نئی ٹیکنالوجیز لے کر آ رہے ہیں اور نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
زرخیز زمین کے صحرا میں تبدیل ہونے کی ایک کلاسیکی مثال 1930 ء کی دہائی میں ”گرد کے پیالہ نما‘‘ طوفانوں کا دور ہے جس نے امریکہ کی وسطی مغربی ریاستوں کو برباد کر کے رکھ دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ناقص قسم کی زمین کے انتظام کے طریقوں نے شدید خشک سالیوں کے ساتھ مل کر بہت زیادہ مصائب پیدا کیے اور معاشی نقصانات کا باعث بنے۔مگر ”گرد کے پیالے‘‘ کے ان برسوں کے دوران سائنسدانوں نے وہ قیمتی اسباق سیکھے جو آج بھی امریکہ کے زرعی طریقوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
آج امریکی سائنسدان خشک سالی، کاشت کاری کے غلط طریقے، جنگلات کی کٹائی یا دیگر انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے زمین کے بنجر ہونے کے مسئلے اور فصلوں کے لیے نہ استعمال ہونے والی زمین سے نمٹ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق عالمی سطح پر دو ارب ہیکٹر قابل کاشت زمین پہلے ہی خراب ہو چکی ہے۔ سال 2045 تک دنیا بھر میں 135 ملین افراد زرخیز زمین کے صحرا بننے کی وجہ سے بے گھر ہو جائیں گے۔
جیف ہیرک امریکی زرعی تحقیقی سروس میں مٹی کے سائنسدان ہیں اور زرخیز زمین کے صحرا میں تبدیل ہونے کو روکنے کے اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی سی ڈی) میں امریکہ کے نمائندہ ہیں۔ ہیرک کا کہنا ہے، ‘‘جب زرخیز زمین صحرا میں تبدیل ہوتی ہے تو لوگ بھوک کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنی زمینیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کیونکہ روزی کمانے کے لیے دوسری جگہوں کی تلاش ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سارا کام لوگوں کو ایسی معلومات کی فراہمی ہے جو اْن کی زمینوں پر رہنے میں مدد کرنے کے بارے میں ہے جن کی انہیں بہتر استعمال کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔
لینڈ پی کے ایس نامی ایپ کے ذریعے ایتھوپیا میں زیرتربیت افراد نے مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کرنے کے لیے اپنے ٹیلی فونز کا استعمال کیا۔نکول بارجر یونیورسٹی آف کولوریڈو بولڈر میں ماحولیات اور ارتقائی حیاتیات کی پروفیسر ہیں اور یو این سی سی ڈی کے سائنس پالیسی کے انٹرفیس گروپ کی شریک سربراہ ہیں۔ پروفیسر بارجر کہتی ہیں، ‘‘زمین کی صحت اور بھلائی پر ہمیشہ ہماری نظر نہیں رہی‘‘۔
امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کی مالی مدد کی وجہ سے ہینرک اور اْن کے رفقائے کار نے لینڈ پوٹینشل نالج سسٹم (لینڈ پی کے ایس) نامی مفت استعمال کیے جانے والا موبائل ایپ تیار کیا ہے۔ یہ ایپ یہ جاننے میں مدد کرتا ہے کہ آیا زمین کاشتکاری کے لیے موزوں ہے کہ نہیں ہے۔ ہینرک کہتے ہیں، ‘‘دنیا میں کسی بھی جگہ رہنے والا آدمی یہ ڈائون لوڈ کر سکتا ہے اور اپنی زمین کی پائیدار (زرعی) صلاحیتوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ یہ (ایپ) بتاتا ہے کہ آپ کے علاقے میں کس قسم کی مٹی پائی جاتی ہے اور آپ کو اپنی مٹی کی شناخت کرنے میں مدد کرتی ہے ۔
کولوریڈو یونیورسٹی میں بارجر کی تحقیق کا تعلق ماحولیاتی بحالی کے پیچھے کارفرما سائنس سے ہے۔ وہ اور اْن کے رفقائے کار ایسے اعدادوشمار فراہم کرتے ہیں جو زمین کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے بہتر فیصلے کرنے میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنوبی یوٹاوہ میں ایک منصوبے میں بارجر کی ٹیم کو پتہ چلا کہ درختوں کو کاٹ کر اور اْنہیں جلانے کے لیے خود لگائی جانے والی آگ زمین کو نقصان پہنچاتی ہے۔
اس کی بجائے اگر درخت کو کاٹ کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کتر کر کھاد کے طور پر مٹی پر ڈال دیا جائے تو مٹی کی نمی میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے پودے اگ سکتے ہیں جس کے نتیجے میں زمین کی ٹوٹ پھوٹ اور کٹائو میں کمی آتی ہے۔
17 جون کو اقوام متحدہ نے صحرائوں کو زرخیز زمین میں تبدیل کرنے اور خشک سالی کا دن منایا۔ اس دن سے زرخیز زمین کے صحرا میں تبدیل ہونے کے بارے میں آگاہی پیدا ہوتی ہے۔بارجر کہتی ہیں کہ ”زمین پر پڑنے والے دبائو کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم کتنا کچھ استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا انفرادی سطح پر، اگر آپ حقیقی معنوں میں زمین پر پڑنے والا دبائو کم کرنا چاہتے ہیں تو ایسا اْن چیزوں کو کم کر کے کیا جا سکتا ہے جو آپ استعمال کرتے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ زمین کو اْس حد تک خراب نہ ہونے دیں کہ ہمیں مداخلت کرنا پڑے‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے