بگاڑ کا ذمہ دار کون ۔۔۔؟

تحریر : اختر سردارچودھری

ماحول سے مراد انسان ، حیوانات، پرندے ، کیڑے مکوڑے سمندری جاندار اور درختوں سمیت کائنات کے ہر جاندار کا وجود شامل ہے بلکہ اس میںبے جان بھی شامل ہیں ۔ہمارے ارد گرد جو کچھ پایا جاتا ہے وہ ماحول ہے ۔اس ماحول کی آلودگی کی وجہ سے جانداروں کی زندگی کو خطرات ہیں ۔پوری دنیا کو اس وقت ماحولیاتی آلودگی کا سامنا ہے آلودگی کی کئی اقسام ہیں ۔ مثلاً زمینی آلودگی‘ آبی آلودگی‘ ہوائی آلودگی اور شور کی آلودگی وغیرہ۔ آلودگی خواہ کسی بھی قسم کی ہو اس سے انسانی صحت اور قدرتی ماحول بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ موجودہ دور میں دنیا کو سب سے بڑا خطرہ جنگلات کے ختم ہونے سے ہے کیونکہ ایسی صورت میں قدرتی آفات(سیلاب،آندھی، طوفان) کا آنا لازمی ہے اور پھر انسانوں میں مہلک بیماریوں کا اضافہ یقینی ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی میں تیزی سے اضافے کی بڑی وجہ جنگلات کی مسلسل کٹائی بھی ہے۔عالمی ماحولیاتی اداروں کی تحقیق کے مطابق کسی بھی ملک کے خشک رقبے کا 25فیصد جنگلات پہ مشتمل ہونا مناسب اورانسانی زندگی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ 1990ء کے اعداد وشمار کے مطابق وطن عزیز میں 3.3فیصد جنگلات تھے لیکن 2015ء کے عالمی بینک کے اعدادوشماردکے مطابق ہمارے جنگلات 1.9فیصد رہ گئے ہیں۔جنگلات کی اتنی اہمیت ہونے کے باوجود د پاکستان (جو کہ ایک زرعی ملک ہے) میں درختوں کی یا جنگلات کی اتنی شدید کمی باعث تعجب ہے۔
ملک میں بڑھتی آلودگی اور موسمی تبدیلوں سے ہم سب بخوبی واقف ہیں ۔شجر کاری اس وقت اہم ترین ضرورت بن چکی ہے زیر زمین پانی کی گرتی سطح روکنے کیلئے بارشوں کی اشد ضرورت ہے جس کیلئے درختوں کا ہونا ضروری ہے ۔ درختوں کے پتوں سے پانی کے بخارات ہوا میں داخل ہونے سے فضاء میں نمی کا تناسب موزوں رہتا ہے اور یہی بخارات اوپر جاکر بادلوں کی بناوٹ میں مدد دیتے ہیں جس سے بارش ہوتی ہے۔ ہمیں اللہ کا شکر کرنا چاہیے کہ ہمارا ملک ان چند خوش نصیب ممالک میں سے ایک ہے جس میں ایک سال میں دو سیزن شجر کاری کے آتے ہیں ۔اللہ کی اس نعمت سے فائدہ نہ اٹھانا کفران نعمت ہے شجر کاری کا پہلا سیزن جنوری کے وسط سے مارچ کے وسط تک اور دوسرا جولائی سے ستمبر کے وسط تک ہوتا ہے ۔
اگر 5 کروڑ افراد میں یہ شعور پیدا کر دیا جائے کہ درخت ہمارے ملک کیلئے کتنی اہمیت اختیار کر گئے ہیں تو چند سال میں سر سبز پاکستان کا خواب پورا ہو سکتا ہے ۔اگر ہر پاکستانی اپنی مدد آپ کے تحت درختوں کی تعداد بڑھانے کیلئے تگ ودو کریگا تب جا کر سرسبز پاکستان کا خواب پورا ہو سکتا ہے ۔ ملک کے طول و عرض میں بہتے دریائوں اور نہروں کے کناروں ،سڑکوں کے بچھے جال کے دونوں طرف درخت لگائیں جائیں۔
ماحولیات کا عالمی دن ہر سال 5جون کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام 1974 سے منایا جا رہا ہے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں ماحول کے تحفظ کیلئے شعور بیدار کرنا ہے ۔ ماحول انسان کیلئے ہے انسان ہی اس میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے ماحول کا تحفظ انسان کی ذمہ داری ہے کیونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اور انسان ہی اشرف المخلوقات ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے