منفی سوچ مضبوط سے مضبوط انسان کو کمزور کر دیتی ہے

تحریر : ڈاکٹر عامر ضیاء

میرا ایک دوست کہتا ہے ،
”اپنا سب سے بڑا دشمن میں خود ہوں ، میں اپنے بارے میں اچھی رائے کم ہی رکھتا ہوں ۔ جیسے ہی میرا بیٹا باہر نکلتا ہے، کئی طرح کے منفی خیالات مجھے گھیر لیتے ہیں ، کہیں کوئی حادثہ پیش نہ آ جائے، آج کل حالات بہت خراب ہیں، میں نے اسے باہر بھیجا ہی کیوں؟‘‘۔
یہ اور ایسے بہت سے خیالات اسے گھیر لیتے ہیں۔اس قسم کے منفی خیالات سے بچنے کی کوشش کیجئے ،یہ ذہنی اور جسمانی صحت کیلئے نقصان دہ ہیں۔ ڈاکٹروں نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ انسان جتنا زیادہ منفی خیالات کا حامل ہو گا اتنی ہی جلدی اس کے دماغ کے خلیے زوال پذیر ہونا شرو ع ہو جائیں گے، الزائمر یا ایسے دوسرے امراض بھی لاحق ہو سکتے ہیں ۔منفی سوچ کا دل ، نظام ہاضمہ سمیت بہت سے افعال پر بھی پڑتا ہے۔ اگر کسی کو پہلے سے ہی جسمانی عارضہ لاحق ہے تو منفی سوچ سے صحت کی بحالی میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ سوچ کیوں پیدا ہوتی ہے؟
نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سوچ کا تعلق کئی باتوں سے ہو سکتا ہے ۔دل میں پایا جانے والاکسی بھی قسم کا خوف بھی اس کا سبب بن سکتا ہے جبکہ ڈپریشن تو اس کا اہم سبب ہے ہی۔یہ سوچ ماحول سے بھی پیدا ہو سکتی ہے اگر ارد گرد کا ماحول واقعی خراب ہے تو منفی سوچ بڑھ سکتی ہے۔قابو نہ پانے کی صورت میں رفتہ رفتہ یہ سوچ شخصیت کا حصہ یا عادت بھی بن سکتی ہے۔
مایوس کن خیالات اور خود پر ہونے والی متواتر تنقید بھی اس میں شدت پیدا کر سکتی ہے۔ ایسا سوچنے سے دماغ میں سکون اور اچھی خوشی پیدا کرنے والے خلیوں تیاری رک جاتی ہے۔ جتنا زیادہ منفی سوچ کو وقت دیتے رہیں گے، جان لیجئے، اتنا ہی یہ خطرناک ہوتی جائے گی ۔صورتحال سے جلدی نہ نمٹا جائے تو یہ عادت بن سکتی ہے ،پھر جان چھڑانا مشکل ہو جاتاہے۔کچھ لوگ دوسروں پر اعتماد نہیں کرتے ،یہ بھی منفی سوچ کی ایک شکل ہے۔ دوسروں کے ساتھ اچھا رویہ اختیار نہ کرنے والے میں بھی یہ عادت پروان چڑھ سکتی ہے۔کئی مرتبہ کسی معاملے میں اچھا اور برا دونوں پہلو مضمر ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگ ہمیشہ تاریک پہلو پر ہی غورکرتے ہیں ، اس سے بچنا چاہئے۔
کچھ لوگوں کو کام شروع کرنے سے پہلے نتیجہ اخذ کرنے کی جلدی ہوتی ہے، کام شروع کرنے سے پہلے ہی وہ اس کے نقصانات کا ادراک کر لیتے ہیں ۔ بہت سے لوگ ہر وقت سوچتے رہے ہیں کہ دنیا میں کوئی نہ کوئی آفت آنے والی ہے ۔ وہ بھی اس کا شکا ربن سکتے ہیں، کچھ لوگوں کو دوسروں میں خرابیاں تلاش کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے ، وہ اپنی کوتاہی کسی نہ کسی کے کندھوں پر ڈالنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں، اتنا دھیان اگر وہ ا پنے کام کی جانب دیں تو کامیابی قدم چوم سکتی ہے لیکن وہ کامیاب ہونا ہی نہیں چاہتے کیونکہ انہوں نے یہ سوچ رکھا ہوتا ہے کہ فلاں آدمی مجھے نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ بہت اسے لوگ جامع انداز میں تجزیہ کرنے کی بجائے جذبات سے کام لیتے ہیں ،ان کا یہ تجزیہ غلط ہو سکتا ہے جس سے اپنے بارے میں یہ سوچ پروان چڑھنے لگتی ہے کہ ”میں تو اپنے لئے اچھا بھی نہیں سوچ سکتا‘‘۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگران کاماحول یا دفتر تبدیل ہو جاے تو خوشی گھر میں ڈیرے ڈال سکتی ہے۔ ایسا ممکن نہیں ہوتا۔اکثر افراد یہ سوچتے ہیں کہ میری تو قسمت ہی خراب ہے جس کام میں ہاتھ ڈالتا ہوں، مٹی ہو جاتا ہے اور اس کو دیکھو ،مٹی میں ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ بھی سونا بن جاتی ہے۔ 
منفی سوچ کے نقصانات 
منفی سوچ سے سردرد ، سینے میں درد، تھکن، پیٹ کی خرابی، نیند میں خلل، ڈپریشن، سماجی سے دوری اور میل ملاپ میں کمی جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ منفی سوچ ذہنی دبائو کو جنم دیتی ہے، جس سے نمٹنے کیلئے ایک نظام حرکت میں آ جاتا ہے اور خون میں اضافی مقدار میں کارٹیسول (cortisol) کا اخراج شروع ہو جاتا ہے۔ فرد کا دھیان کسی ایک سمت میں مزید بڑھ جاتا ہے یعنی منفی سوچ پختہ تر ہو جاتی ہے۔ فرد الرٹ رہتا ہے، کیونکہ اسے منفی سوچ سے بھی لڑنا پڑتا ہے۔ یہ کیفیت اگر لمبے عرصے تک جاری رہے تو ہاضمہ خراب ہو سکتا ہے، سوزش کے خلاف لڑنے والا مدافعتی نظام کمزور پڑسکتا ہے،یہ اس قسم کے لوگ دوسروں کی نہ نسبت زیادہ بیمار رہتے ہیں۔
بچائو اور علاج
حالات کا درست تجزیہ کرتے ہوئے حقیقت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کیجئے، اور سوچئے کہ اگر دنیا بہت بڑی ہے ، اس میں انگنت اچھے کام ہو رہے ہیں جو آپ کے بھی مفاد میں ہیں۔صرف ان پر ہی توجہ مرکوز رکھیے۔وقت کے ساتھ رہیے ،یعنی کسی صورت میں بھی خیالات میں کھونے کی بجائے یہ سوچتے رہیے کہ کامیابی میرے قریب آ رہی ہے۔مستقبل سے ڈرنا اور مایوس ہونا چھوڑ دیجئے۔مثبت سوچ کے ذریعے منفی عادت کو بھی بدلا جا سکتا ہے۔اس عادت سے جان چھڑانے کے لئے مسلسل کامیابی اور اچھی باتوں کو ذہن میں لائیں، اچھی اور بہتر سوچ زندگی کا حصہ بنا لیجئے۔ روشن خیال افراد کے حلقے میں شامل ہو کرجائیں۔اپنی قوت پر بھروسہ کریں،اور اپنی خوبیوں پر بار بار غورکریں ۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر گوئے ونچ کہتے ہیں کہ ” روزانہ صبح اٹھتے ہی خود کے بارے میں اچھا سوچنے سے انسان کی کمزوریاں دور ہونے لگتی ہیں، اس کے برعکس اپنے بارے میں برا سوچنے والا اندر سے بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس سے بچنا مشکل کام نہیں ہے، جب بھی کوئی منفی خیال آئے تو اپنی اچھی سی بات کو یاد کر کے کچھ دیر کے لئے اس میں کھو جائیں۔یہ اس کا بہترین حل ہے‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے