پاکستان میں مرغبانی کی صنعت ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی صنعت کا درجہ اختیار کر گئی

(لائیوسٹاک پاکستان) پاکستان میں مرغبانی کی صنعت ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بعد ملک کی دوسری بڑی صنعت کا درجہ اختیار کر گئی ہے جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے اور اگرچہ مرغبانی کی صنعت تیزی سے فروغ پا رہی ہے لیکن اس ضمن میں ضروری اقدامات کو مد نظر نہ رکھا جا رہا ہے جس سے مرغی خانوں میں بیماریاں بھی پھیلنے کے خدشات موجود رہتے ہیں۔

محکمہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اشفاق احمد انجم نے کہا کہ یو ں تو بہت سی صنعتوں میں قابل ذکر ترقی ہوئی ہے لیکن جو ترقی مرغبانی کے میدان میں ہوئی اورہو رہی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس صنعت سے وابستہ سٹیک ہولڈرز، سائنسدانوں،ماہرین لائیوسٹاک اور تاجروں نے بڑی لگن اور شب و روز کی محنت سے اسے بام عروج تک پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ماحول کنٹرول سسٹم اشد ضروری ہے اسلئے اگر برائلر فارم لگانامقصود ہوتو کم از کم 25ہزار کی گنجائش کا شیڈ ہونا اور اگر انڈے والی مرغی رکھنا ہو تو کم ازکم 30ہزار لیئر مرغی کارکھنا اشد ضروری ہے تاکہ پولٹری فارم سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جس جگہ پر پولٹری فارم لگانا مطلوب ہو اس جگہ کے پانی کا پہلے لیبارٹری ٹیسٹ کروانا ضروری ہے تاکہ اس بات کا علم ہو سکے کہ یہ پانی مرغیوں کیلئے مفید ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید بتایاکہ ایسی جگہ پر فارم لگانے سے گریز کرنا چاہیے کہ جہاں بارش کا پانی کھڑا رہنے،سیلاب آنے یا بجلی کی سپلائی میں رکاوٹ کا خطرہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجوزہ پولٹری فارم کے ساتھ چاول یا دھان کی فصل کاشت کی جاتی ہو تو ایسی زمین کے ساتھ بھی پولٹری فارم لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے