کیا پالتوبلیاں دماغی کینسر کا سبب بن رہی ہیں؟

بلیوں کو گھروں میں بہ طور پالتو جانور پالنے کا رجحان ہمارے معاشرے میں بھی بہت عام ہے۔ امرا پرشین بلی پالتے ہیں تو غریب افراد گلی محلوں میں گھومنے والی بلی کے لیے گھر میں ہی ایک کونا مختص کردیتے ہیں۔ 

بلی ایک ایسا بن بلایا مہمان ہے جو پالتو نہ ہوتے ہوئے بھی آپ کے گھر میں ہر وقت براجمان رہتا ہے۔ اورجانوروں سے محبت کرنے والا کوئی بھی فرد اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ موہنی سی صورت والے اس معصوم جانور کو بیماریوں کے پھیلائو کا ذمے دار قرار دیا جائے۔ بلیوں اور ان کے بالوں سے الرجی کی باتیں تو زبان زدو عام ہیں، لیکن نئی امریکی تحقیق نے بلی کو سنگین دماغی عارضے کا ممکنہ محرک بھی قرار دے دیا ہے۔

امریکی ادارے’سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن‘کےاعداد و شمار کے مطابق تقریبا 4 کروڑ امریکیوں کے دماغ میں ایک پیرا سائٹ (طفیلیہ) Toxoplasma gondii پرورش پا رہا ہے جو کہ انسانوں میں برین کینسر اور سِکروفیرینا(مالیخولیا) کا سبب ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر روبرٹزکی کا کہنا ہے کہ یہ طفیلیا پالتو بلیوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ امریکن کینسر سوساسائٹی کی تحقیق کے مطابق

ہم نے اس طرف جانب ٹاکسو پلازموسس (ایک قِسم کا اعصابی نِظام کا عارضہ جو ریشوں میں یک کیسہ طفیلیوں کی کثرت کے سبب پیدا ہو جاتا ہے)  کی وجہ سے توجہ دی، کیوں کہ اس بیماری کا سبب ٹاکسو پلازما نامی طفیلیا ہے، جو کہ درج بالا طفیلیے کے متوازی انسانی دماغ میں پرورش پاتے ہوئے برین کینسر یا رسولی بننے کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ دو مختلف مطالعوں سے ان دونوں طفیلیوں  کے درمیان واضح ربط ظاہر ہوتا ہے ۔ لیکن اس اسٹدی سے ان پیراسائٹس اور دماغ کے کینسر کے درمیان ربط کے ٹھوس شواہد ابھی تک نہیں مل سکے ہیں، جس کے لیے مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال کوپن ہیگن یونیورسٹی کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ بلی کے پیشاب میں پایا جانے وال طفیلیہ Toxoplasma gondii عموما بےضرر ہوتا ہے، لیکن کچے گوشت کی بدولت یہ انسانوں میں منقتل ہوکر انہیں مالیخولیا (دماغی بیماری) میں مبتلا کرسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے