’’ سرکہ‘‘ کے باغبانی میں 10 فائدے

تحریر : شبانہ سلمان

” سرکہ‘‘ صرف کچن میں ہی اہم نہیں، جہاں اس کی مدد سے بے شمار مزیدار ڈشیں بنائی جا سکتی ہیں، وہیں ماہرین نباتات نے سرکہ کو باغبانی کی ضرورت بھی قراردیا ہے۔ اس کی مدد سے کچھ اقسام کے کیڑے بھی مارے جا سکتے ہیں اور باغبانی کے آلات کی صفائی بھی کی جا سکتی ہے۔یہ جڑی بوٹیوں کا صفایا کرنے میں بھی مفید ہے اور کھاد کے طور پر بھی کام آ سکتا ہے۔ باغبانی میں سرکہ کے فائدے یہیں ختم نہیں ہوتے ، یہ گرین بیلٹ کو سانپوں سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد کر سکتا ہے۔ تو آیئے، ہم آپ کو باغبانی میں سرکہ کے استعمال سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔
جڑی بوٹیوں کا خاتمہ:سرکہ میں پانچ فیصد ایسیٹک ایسڈ ہوتا ہے جو جڑی بوٹیوں کے خاتمے کے لئے مفید ہے، اسپرے کی بوتل میں سرکہ ڈال کرجڑی بوٹیوں کے قریب جا کر سپرے کیجئے تاکہ سرکہ اس کی جڑوں میں پہنچ جائے، یہ کیمیکل جڑی بوٹیوں سے نجات دلا دے گا۔ تاہم اس میں پانی ملانے کی چنداں ضرورت نہیں، پانی ملانے سے یہ کمزور پڑ جائے گا اور جڑی بوٹیاں بچ نکلیں گی !۔جڑی بوٹیوں کو سرکے میں ڈبونے کی ضرورت نہیں ،بس ذرا سا گیلا کر دیجئے ، کام بن جائے گا۔ اگر یہ سرکہ کسی دوسرے پودے میں شامل ہو گیا تو اسے بھی نقصان پہنچا سکتا ہے لہٰذا صرف نقصان دہ جڑی بوٹیوں کی جڑوں یا ان کے قریب سپرے کرنا مفید ہوگا۔ بارش یا آندھی کی صورت میں بھی سپرے ہرگز نہ کیجئے یہ خود بخود دوسرے پودوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔
سانپوں سے نجات :بعض خطرناک جانور سرکہ کی بو سے نفرت کرتے ہیں، جیسا کہ سانپ ۔ استعمال شدہ پرانے کپڑوں کے ٹکڑوں کو سرکے میں بھگو کر اپنے لان یا قابل کاشت جگہ کے اطراف میں چار دیواری کے ساتھ ساتھ رکھ دیجئے ۔ اس سے سانپوں کے علاوہ خرگوش اور ہرن بھی بھاگ جائیں گے۔ تاہم بارش کے بعد یا جب آپ محسوس کریں کہ سرکے کی بو ختم ہو چکی ہے تو ان کپڑوں کو سرکے میں دوبارہ بھگو لیں ۔ جن علاقوں میں سانپ زیادہ پائے جاتے ہیں وہاں چار دیواری کے علاوہ سانپ کے ممکنہ بلوں کے قریب بھی سرکہ میں ڈبو کر کپڑے رکھنے سے آپ کسی حد تک محفوظ ہو جائیں گے ۔
گھونگھوں سے نجات: سلگ ( Slug) اور گھونگھے (Snails)بھی باغبانوں کو کافی تنگ کرتے ہیں، یہ دھیرے دھیرے پودوں کو چاٹ جاتے ہیں، ان پر ذرا سا سرکہ چھڑکیے ، وہ گھل کر مائع بن جائیں گے۔ویسے ان کے لئے نمک بھی کافی ہے ۔ہم بچپن میں اپنے سائنسی تجربات کے وقت ان پر نمک چھڑک کر صفایا کردیتے تھے ، یہ اچھا شغل ہوا کرتا تھا۔ سرکہ کی بو سے کئی دوسرے کیڑے مکوڑے بھی دور بھاگتے ہیں۔
جلدی پودے نکلنے میں مدد:
بیجوں کو بوائی سے پہلے سرکہ میں بھگو لیجئے، ”جرمی نیشن ‘‘میں مدد ملے گی اورفصل اچھی ہو گی۔ کسی پیالے یا برتن میں بیج ڈال کر اتنا پانی ڈالیے کہ بیج اس میں تقریباََڈوب جائیں،اب ایک کھانے کا چمچ سرکہ ڈال کر 8 سے 12گھنٹے کے لئے اس محلول کو رکھ دیجئے۔ یاد رہے کہ بیج کسی بھی صورت میں اس محلول میں 24گھنٹے سے زیادہ دیر کے لئے ہرگز نہ رکھے جائیں۔ اس عمل سے بیج کا بیرونی حصہ نرم ہونے سے نشوو نما میں تیزی آئے جائے گی۔
باغبانی کے آلات کی صفائی :سرکہ کی مدد سے آپ باغ میں استعمال ہونے والے لوہے کے آلات کی زنگ بھی اتار سکتے ہیں۔ نمی سے آلات جلد ہی زنگ آلود ہو جاتے ہیں۔ صفائی کے لئے ان پر سرکہ کا اسپرے کرنے کے بعد پانی سے صاف کر لیجئے ۔زیادہ گندہ ہونے کی صورت میں آدھا پانی اور آدھا سرکہ ملا کر سپرے کرنے کے بعد رات بھر پڑا رہنے دیجئے۔صبح کو کسی چیز سے رگڑنے کے بعد صابن سے دھو لیجئے ، صاف ہوجائے گا۔
پودوں کی حفاظت: ہم سمجھتے ہیں کہ مائوتھ واش کی مدد سے بھی پھولوں کے پودوں کی زندگی بڑھائی جا سکتی ہے لیکن سرکہ بھی پھولوں کو غذائی اجزا مہیا کر سکتا ہے ،یعنی اسے کھاد کے بطور پر بھی استعمال کیاجا سکتا ہے ۔ ایک گیلن پانی میں ایک کپ سرکہ ملا لیجئے، یہ چنبیلی ،گل ادریسی (Hydraneas) ، ”ہولی‘‘ (Hollies) اور ”روڈوڈنڈون ‘‘(Rhododendron) جیسے پھولوں کے پودوں کے لئے بہترین کھاد بن جائے گا۔
مٹی میں الکلائن کی مقدارمعلوم کیجئے:آپ سرکے کی مدد سے مٹی میں الکلائن (قلمی صفت )کی مقدار کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ کئی جگہوں سے مٹھی بھر مٹی نکال لیجئے ، اس کے بعد ایک کپ پانی اور آدھا کپ سرکہ ڈال دیجئے۔ جتنے زیادہ جھاگ (fizz) بنیں گے اتنی ہی زیادہ پی ایچ (pH)ویلیو ہو گی۔ کھانے کا سوڈا پانی میں ملا کر بھی یہی ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔
فنگس کا خاتمہ :ایک گیلن پانی میں تین کھانے کے چمچ سیب کے رس کا سرکہ (Apple cider) ملا کر فنگس زدہ پودوں یا پتوں پر سپرے کیجئے،یہ کئی اقسام کی فنگس کو ختم کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔
اینٹو ں کی صفائی: اینٹوں پر وقت کے ساتھ ساتھ چونا نمودار ہو جاتا ہے، یہ بہت ہی برا لگتا ہے ، مکان سو بر س پرانا لگتا ہے، سرکہ اس کا بھی علاج ہے۔ ایک کپ ( Distilled white Vinegar) اور ایک گیلن پانی کا محلول تیار کیجئے، اگر کم یا زیادہ مقدار درکار ہو تو سرکہ اور پانی کا تناسب یہی رکھیے، اینٹوں پر اس محلول کا چھڑکائو کرنے کے بعد برش سے صاف کر لیجئے، کیلشیم اور چونا غائب ہو جائے گا۔
پرندوں کے برتن کی صفائی: لوگ اکثر پرندوں کے لئے برتنوں میں پانی رکھ دیتے ہیں جن پر کچھ ہی دنوں میں کائی جم جاتی ہے ان کی صفائی بھی 9حصے پانی میں ایک حصہ سرکہ ملا کر کی جا سکتی ہے۔ اس سے پانی پینے والے پرندوں کی تعداد بھی بڑھ جائے گی انہیں بھی تو صاف ستھری چیزیں اچھی لگتی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے