چائے اور کافی

تحریر : کاشف خورشید

پچھلے چند برسوں سے قومی و عالمی ذرائع ابلاغ میں متواتر یہ خبریں آ رہی ہیں کہ سبزچائے اور کافی انسانی صحت کے لیے مفید ہیں۔ تاہم کبھی کبھی یہ خبر بھی سننے کو ملتی ہے کہ یہ دونوں مشروب اتنے مفید نہیں جتنا انھیں بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ چنانچہ باشعور اور تعلیم یافتہ مردوزن مخمصے میں ہیں کہ چائے و کافی کا استعمال کیا جائے یا نہیں؟ اس ضمن میں مستند طبی ماہرین کی رائے کو فوقیت دینی چاہیے۔مثال کے طور پر ڈاکٹر ڈیوڈ کٹنر ماہرِغذائیات، جو عالمی شہرت یافتہ امریکی یونیورسٹی، ٹیل سے منسلک ہیں، کہتے ہیں ”یہ حقیقت ہے کہ چائے میں امراض کا مقابلہ کرنے والے مانع تکسید ) مادے پائے جاتے ہیں لیکن ابھی تک یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ یہ کیونکر انسانی صحت کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ سائنس ٹھوس حقائق مانگتی ہے، اْسے مفروضوں پر ٹرخایا نہیں جا سکتا۔ لہٰذاچائے کی افادیت کا کچھ زیادہ ہی ہّوا کھڑا کر دیا گیا ہے۔‘‘
تعریف کیا ہے؟چائے کے عاشق کو پہلے اس مشروب کی تعریف سمجھنی چاہیے۔ ماہرین طب اور سائنس دان جب چائے کا ذکر کریں، تو ان کی مراد اس کی چار اقسام… سیاہ، سبز، سفید اور اولونگ ہوتی ہے۔ یہ چاروں اقسام ایک پودے، کمیلیا سینینسیز کے پتوں سے بنتی ہیں۔ جڑی بوٹیوں مثلاً بابونہ اور پودینے سے بنا مشروب تکنیکی طور پر چائے نہیں کہلا سکتا۔ مزید برآں مختلف بوٹیاں ملا کر بھی چائے نما مشروب تیار ہوتے ہیں۔ یہ سبھی مشروب اپنی غذائی خصوصیات رکھتے ہیں۔ لہٰذا اصل چائے وہی ہے جو درج بالا پودے کے پتوں سے بنائی جائے۔چائے کی چاروں اقسام ایک دوسرے سے یوں مختلف ہیں کہ انھیں پتوں سے کس طریقے سے تیار کیا گیا۔ نیز یہ کہ پتے تب کتنے پختہ تھے۔ یہی دونوں نکات چاروں اقسام کی چائے کے ذائقے اور غذائی عنصر پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ سیاہ چائے یوں بنتی ہے کہ پہلے اس کے پتے سکھائے جاتے ہیں۔ پھر انھیں عمل تکسید سے گزارا جاتا ہے۔ عملِ تکسید سے مراد یہ ہے کہ پتے ہوا میں پھیلا کر مزید سکھائے جاتے ہیں۔ یہ عمل پتوں کے کیمیائی مادوں کی ہیت و ترکیب بدل ڈالتا ہے۔ سبز چائے سکھائی جاتی ہے، مگر اْسے عملِ تکسید سے نہیں گزارا جاتا۔ اولونگ چائے بھی خشک پتوں سے بنتی ہے، تاہم وہ پوری طرح عملِ تکسید سے نہیں گزرتی۔ سفید چائے نم پتوں سے بنتی ہے اور انھیں سکھایا بھی نہیں جاتا۔
مانع تکسیدی مادے:چائے کی چاروں اقسام میں مانع تکسیدی مادوں کی ایک قسم، پولی فینول پائے جاتے ہیں۔ جب سرطان یا دیگر امراض خلیوں کے ڈی این اے پر حملہ آور ہوں، تو یہی پولی فینول انھیں حملوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ چنانچہ انہی مادوں کے باعث ماہرین طب کی نگاہ میں چائے چڑھ گئی اور یہ سمجھا جانے لگا کہ وہ انسان کو کئی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ ماہرین کی توجہ کا مرکز سیاہ چائے اور سبز چائے ہے۔ یہی دونوں اقسام دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ ان میں بھی سبز چائے پر ماہرین کی نظرِخاص ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سبز چائے میں مانع تکسیدی مادوں کی بڑی مقدار ملتی ہے۔ ان مادوں میں پولی فینول کی ایک قسم، کیٹچین قابلِ ذکر ہے۔
ذیل میں ماہرینِ طب کے نزدیک سبز چائے کے چار بڑے فوائد درج ہیں :
(۱)2009 میں سبز چائے پر کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اگر انسان روزانہ 3 تا 5 پیالی سبز چائے نوش کرے، تو پھیپھڑے، غدہ قدامیہ ، بیضہ دانی اور بڑی آنت کے سرطان سے ”شاید‘‘ محفوظ رہ سکتا ہے۔51 تحقیقات کا یہ جائزہ جرمنی میں یونیورسٹی آف وٹن/ ہرڈیکے کے سینٹر آف انٹیگریٹو میڈیسن میں لیا گیا۔جہاں تک سیاہ چائے کا سوال ہے، امریکا کے سرکاری طبی ادارے، این آئی ایچ (نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ) سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ”شاید‘‘ وہ خواتین کو بیضہ دانی کے سرطان سے محفوظ رکھتی ہے۔ نیز شکم اور بڑی آنت کے سرطان سے بچائو میں سیاہ چائے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔
(۲) این آئی ایچ کے ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ اگر انسان ایک تا چار پیالی سبز چائے یا سیاہ چائے نوش کرے، تو پارکنسن مرض چمٹنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
( 3) ڈاکٹر ڈیانا میکے امریکی ٹفٹس یونیورسٹی کے فیرڈمین اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پالیسی میں ماہرِغذائیات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چائے امراضِ قلب کی شدت کم کرتی ہے۔ نیز وہ جسم انسانی میں بْرا کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) اور چربیلے مادے کی سطح بھی گھٹاتی ہے۔
(۴) برطانیہ میں ہوئی ایک اور چھوٹی تحقیق سے عیاں ہوا کہ سبز چائے مانع تکسید حرارے بھی جلاتی ہے۔ یوں وہ ”شاید‘‘ موٹاپا کم کرنے میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔نتیجہ کیا نکلا؟
درج بالا فوائد سے عیاں ہے کہ سبز چائے ایک صحت بخش مشروب ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک میں صحت سے متعلق سرکاری و غیرسرکاری اداروں نے ابھی تک یہ تجویز نہیں کیا کہ چائے پینا روزمّرہ کا معمول بنا لیا جائے یا نہیں یا اس کا کبھی کبھی استعمال کارگر ہے۔ وجہ یہی ہے کہ ابھی تک ایسے ٹھوس حقائق اور شہادتیں سامنے نہیں آئیں، جو ثابت کریں کہ چائے واقعی متذکرہ بالا فائدے رکھتی ہے۔دراصل چائے کے مخالف ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشتر تحقیقات میں ایسے مردوزن پر تجربات کیے گئے جو چائے پینے کے علاوہ مختلف مشروبات اور غذائیں بھی استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ ہو سکتا ہے کہ کسی اور غذا یا مشروب کی صحت بخش خوبی چائے سے منسوب ہوگئی ہو۔ تاہم ماہرین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ دن میں چائے کی ایک دو پیالی پینے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، بلکہ یہ کئی مشروبات کی نسبت بہتر مشروب ہے۔ ویسے بھی ہر شے کی زیادتی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔
چائے کی طرح کافی کے بارے میں بھی متضاد باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ بعض ماہرین طب اْسے صحت کے لیے مفید سمجھتے ہیں۔ دوسروں کے نزدیک اس کا زیادہ استعمال مضر ہے۔ سب سے پہلے ایک حامی ماہر، ڈاکٹر روب وان ڈیم کی سنیے۔ موصوف امریکی ادارے، ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ پروفیسر موصوف کہتے ہیں، یہ درست ہے کہ (کافی میں شامل) کیفین فشارِخون (بلڈپریشر) میں اضافہ کرتی ہے۔ لہٰذا اگر آپ ہائپر ٹینشن کے مریض ہیں، تو ڈی کیف (کیفین سے مبرا) کافی لیجیے۔ مزید براں کیفین نیند بھگاتی ہے۔ لہٰذا آپ سونے میں دْشواری محسوس کریں، تو کافی کا استعمال کم کر دیں۔ ان صورتوں کے علاوہ کافی معتدل مقدار میں پیجئے، فائدہ پہنچائے گی۔ڈاکٹر روب کا یہ بھی کہنا ہے کہ کافی ذیابیطس سے بچاتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جو شخص روزانہ تین چار کافی کی پیالیاں پیئے، اسے ذیابیطس چمٹنے کا خطرہ 25 فیصد کم ہو جاتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر روب کا یہ بھی خیال ہے کہ ایسا کیفین نہیں، کلوروجینک تیزاب کے باعث ہوتا ہے۔ یہ مانع تکسید کافی میں ملتا ہے۔ مزید براں یہ امکان ہے کہ کافی جگر کے سرطان اور صلابتِ جگر سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ بعض ماہرین طب کا خیال ہے کہ کیفین بھی فوائد رکھتی ہے۔ مثلاً یہ ہمیں الزائمر اور پارکنسن امراض سے ”شاید‘‘ محفوظ رکھتی ہے۔ کافی کے مخالفوں کی بھی کمی نہیں۔ ان میں ڈاکٹر جیمز لین قابلِ ذکر ہیں۔ آپ مشہور برطانوی ماہرِغذائیات اور ڈیوک یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں۔ ڈاکٹر جیمز کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ ابھی کافی پر زیادہ تحقیق نہیں ہوئی، لہٰذا عوام کو یہ کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی کہ وہ آزادی سے اْسے استعمال کریں۔ ڈاکٹر جیمز کو سب سے زیادہ اعتراض کیفین پر ہے۔ کافی کا معتدل مقدار میں استعمال ہی ہونا چاہیے تاہم جو بلند فشارِ خون اور ذیابیطس میں مبتلا ہیں وہ احتیاط کریں۔تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ دونوں امراض کا شکار مریضوں نے کافی چھوڑی، تو ایک دو ہفتے میں افاقہ ہوگیا۔ چنانچہ دونوں بیماریوں کے مریض کافی پئیں تو ان میں بیماری کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ ڈاکٹر موصوف ہی کی تحقیق سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ کافی ذہنی دبائو میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے